ہمارے متعلق

ہمیں یہ اطلع دیتے ہوئے مسرت ہورہی ہے کئ روزنامہ منصنف نے سارے ہنروستان میں اردو کے نمبر ایک اخبار کا موقف مسلسل تیر ہویں معیار میں بھی برقرار رکھا جو جنوری تا جون 2006 کے درمیان میں ہیں۔ اے بی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ روزنامہ منصنف کی روزانہ تعداد اشاعت 60009 ہے جبکہ اس کے جملہ قارئیں کی تعداد یومیہ تقریباً 12 لاکھ ہے۔ ہم اپنی اس شاندار کامیابی کے لیے ہمارے پڑھنے والو کی سر پرستی اور ہمارے مشتہرین کے تعاون کے لیے شکر گزار ہیں۔
سارے ہنروستان میں پرنٹ میڈیا کے میدان میں درپیش مشکلات کے باوجود اخبار منصنف نے اپنا یہ موقف برقرار رکھا ہے۔ اپنے مثبت طریقہ کار اور جدید ٹکنالوجی پڑھنے والوں اور مشتہرین سرپرستی کی وجہ سے ہم اپنی تعداد اشاعت کو برقرار رکھ سکے۔ اسی وجہ سے ہم دیگر روزناموں کے مقابلہ میں اپنی سبقت بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس وقت منصنف کو جو نمبر ایک کا موقف ریاست آندھراپردیش تک محدود نہیں ہے بلکہ پڑوسی ریاستوں جیسے کرنا ٹک اور مہاراشترا کے علاوہ بیرونی ممالک بطور خاص امریکہ’ یورپ اور خلیجی مملک میں بھی یہی موقف برقرار ہے۔ ہم اس طرح ملنے والے تعاون اشتراک کے لیے تہہ دل سے ممنوں ہیں جس کے بغیر ہم یہ بے مثال پوزیشن حاصل نہیں کر سکے تھے۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں اس سے بھی بہتر کام کرنے کے لےے ایسا ہی تعاون ہمیشہ ادارہ کو حاصل رہے گا۔

جناب خان لطیف محمد خان

جناب خان لطیف محمد ایک ہمہ پہلو شخصیت کے حامل ہیں جن کا تعلیمی اور کاروباری میدان میں نہایت ممتاز کیرئیر رہا ہے۔ تاریخی شہر حیدارآبار میں پیدا ہوے۔ وہ ہندوستانی شہری ہیں۔ ۱۹ سال کی عمر میں وہ امریکہ گئے جہاں ۴ دہوں تک قیام کے بعد وہ ہندوستان واپس ہوے اور اپنے آبائی شہر حیدارآبار میں بودوباش اختیار کر لی۔

امریکہ جانے سے قبل انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری انجنیرنگ ٹکنالوجی اور ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ وہ دور طالب علمی میں طلبا کے قائر تھے جس میں وہ باوقار اعزہ اسکول کی طلبا ئونین کے صدر اور عثمانیہ یونیورسٹی سائنس کالج کی طلبا یونین کے سکریڑی بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے قبل وہ 1959 میں سٹی کالج میں بھی وہ سکریٹری اور فُٹبال کے کیپٹن رہ چکے ہیں۔ امریکہ کی ایسٹرن ایلتیوائس یونیورسٹی کی انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس یونین کے وہ صدر رہ چکے ہیں۔ چونکہ وہ سماجی کام کے لیے خود کو وقف کر چکے ہیں اسی لیے انہوں نے ایک تعلیمی مہم شروع کی جس کے تحت کے جی سے لے کر پوسٹ گریجویشن کی سطح تک انہوں نے تعلیمی اداراہ قائم کئے جن میں 16 ہزار طلباء ایسے علاقوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں پسماندہ طبقات اور معاشی طور پر پاماندگی کا شکار افراد رہیے ہیں۔ ان کے لیے کروڑ ہاروپئے جرچ کر کے جناب خان لطیف محمد جان نے مفت تعلیم کا انتظام کیا۔ معاشی استحکام کے پیش نظر انہوں نے متعددمیقاتی اور فنی مراکز خواتین کے لیے قائم کئے جہاں غریب گھرانوں کی جانہ دار غیر پڑھی لکھی خواتین کو مفت ٹرینینگ دی جاتی ہے اور انہیں کشیدہ کاری،سیون،بیوٹی ٹیکنیشن کورس وغیرہ سکھائے جاتے ہیں۔ ان خواتین اور لڑکیوں کو سلائی مشین اور سیون میں استعمال ہونے والی اشیاء مفت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ مراکز اب ان خواتین کے لیے روزگار کا زریعہ بھی بن گئے ہیں۔ کیونکہ انہیں تیار شرہ ملبوسات کی صنعت سے مربوط کر دیا گیا ہے۔ تربیت کے بعد یہ خواتین و لڑکیاں اب ماہانہ ہزاروں روپے کما رہی ہیں آرام سے ذندگی گذار رہی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بچہ مزدوری کی لعنت کا بھی خاتمہ ہو رہا ہے۔ مغربی ممالک جیسے امریکہ میں کئ سبگ میل طئے کرنے کے بعد بھی انہوں نے کبھی اپنے وطن حیدرآباد کو فراموش نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے ملک اور فرقہ کی خداما انجام دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے ریاست کی بہتری کی خاطر تعلیمی تحریک کو فروغ دینے کی ضرورت کو شرت سے محسوس کیا ہے۔ نوجوان نسل میں اعلی کردار اور بصیرت پیرا کرنے کی خاطر انہوں نے خود کو سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی سے 1990ء میں وابستہ کیا۔ باوقار محقم جاہ کالج اور انجینیرنگ اینڑ ٹکنالوجی کا انہیں صرد نشین نامزدگیا۔ یہاں بھی انہوں نے کئ ترقیاتی سرگرمیاں انجام دیں۔ کالج کے لیے نیشنل بورڑ آف ایکریڑیشن سے وابستگی حاصل کرنے میں بھی موصوف کلیدی رول ادا کیا۔ اسی کالج میں انہوں نے ایم سی اے ماسٹر آف انجنیر (ایم ای سی اے ڈی اے ایم) جیسے کورس شروع کرنے کا عظیم النشان کارنامہ انجام دیا۔ 1999ء میں وہ پھر صدر نشین منتخب ہوئے آج تک وہ سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر نشین کے عہدہ پر فائز ہیں۔ اس وابستگی کے دوران جناب خان لطیف محمد خان ذیل میں درج سوسائٹی کے تحت چلنے والے مختلف اداروں میں جدید اور سائنسی تعلیم کو فروغ رینے کا کام بھی انجام

ادارے

1) ظم جاہ کالج آف انجینرنگ اینڈ ٹکنالوجی۔ 2) سلطان العلوم کالج آف لا 3) امجد علی خان کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن۔ 4) غلام احمد کالج آف ایجوکیشن۔ 5) سلطان العلوم کالج آف فارمیسی۔ 6) سلطان العلوم جونئیر کالج، بنجارہ ملز۔ 7)سلطان العلوم جونئیر کالج،قاضی پورہ۔ 8) ساطان العلوم گروپ آف پبلک اسکولس،نبجارہ ہلز،فلک نما،سید علی چبوترہ،حافظ بابانگر ،قاضی پورہ،حسینی علم اور گولکنڈہ ان اداروں میں شامل ہے۔
آئندہ تعلیمی سال سے حسن نگر، مصری گنج جیسے علاقوں میں مز ید اسکولس بھی قائم کئے جائیں گے۔ابھی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے 20 ہزار طلباء متند کرہ بالا اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان طلباء کو مفت یونیفارم، کتابیں بھی فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ مراعات سے محروم ان طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔ اب جناب خان لطیف محمد خان اپنی اس تعلیم سرگرمیوں کو دیہی علاقوں میں پھیلا رہے ہیں، جہاں وہ انہی طبقات کے لئے تربیتی سنٹرس اور اسکولس قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے اخبار مضنف کی باگ ڈور 1996ء میں سنبھالی تھی۔صرف دو سال کی مدت میں یہ اخبار ہندوستان کے اردو روزناموں میں نمبر ایک ہو گیا ہے،جس کی تعداد اداشاعت یومیہ 60009 ہو چکی ہیں۔ جبکہ اس کے پڑھنے والوں کی تعداد یومیہ 12 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر روزنامہ منصف کو دو لاکھ افراد پڑھتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سکندرآباد کو آپریٹیو اربن بینک کا انتظامیہ صدر نشین کی حیثیت سے اپنی تحویل میں لیا ہے۔ یہاں تک انہوں نے کئ مفید اسکیموں کا اعلان کیا،جن سے معاشی طور پر کمزور طبقات فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ بارکس،لاڈبازار جیسے مسلم آبادی والے علاقوں میں بینک کی شاخیں قائم کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ اس بینک کا صدر دفتر مشہور خان لطیف خان اسٹیٹ روبرولالا بہادر اسٹیڈیم حیدرآباد قائم کیا گیا ہے۔ بینک سے قرض برائے نام سرویس چارج پر دیا جاتا ہے،جس میں بھاری سود شامل نہیں ہوتا۔ یہ سہولت خاص طور حر غریب خواتین کو دی جاتی ہے تاکہ وہ گھریلو صنعتیں شروع کر سکیں۔ حیدرآباد میں جو مختلف ادارے انہوں نے قائم کئے ہیں، اس میں تقریبا 300 پسماندہ طبقے کے افراد اور روزگار بھی فراہم ہوتا ہے۔اب خان لطیف خان صاحب اخبار مصنف کا ایڈیشن دہلی اور مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد سے شروع کرنے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 24 گھنٹوں تک چلنے والا اردو نیوز چینل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ آرٹ،ڈرامہ، کلچر کو جو قومی یکجہتی پر مبنی ہے فروغ دینے کے لئے انہوں نے حیدرآباد شہر کے قلب عابڈس پر دو تھیٹر 70 ایم ایم سنتوش اور 35 ایم ایم سپنا بھی قائم کئے،جنہیں شہر کے مشہور سینما گھروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ریاست کے مسلمانوں کو تعلیمی اور روزگار کے میدان میں 5 فیصد تحفظات کے مسئلہ میں انہوں نے اہم رول ادا کیا۔
سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کے لئے اپنے جیب خاص سے انہوں نے بھاری رقم ادا کر کے سپریم کورٹ کے سنئر وکلاء کو متعین کیا،جنہوں نے آندھراپردیش حکومت اور ہائ کورٹ کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن میں بحث کی۔ گجرات کے فساد سے متاثر افراد کی مدد کے لیے بھی وہ آگے بڑھے، جن کے لئے انہوں نے 1۔26 کڑوڑ کی رقم جمع کی۔ گجرات کے متاثرین کے لئے جناب خان لطیف محمد خان نے منصف کالونی تعمیر کی۔ کھیل کود کے میدان میں بھی وہ اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ سٹی کالج اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے ذریعہ فٹبال اور والی بال کی ترقی کے لئے بھاری رقم خرچ کی جا رہی ہے تاکہ ملازمتوں میں جو اسپورٹس کو ٹہ ہوتا ہے اس میں پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو موقع مل سکے۔
2002ء میں جبکہ حیدرآباد میں نیشنل گیمس منعقد ہوءے تھے، تو انہوں نے مقابلہ جیتنے والےہر کھلاڑی کو لاکھوں روپے کا نقد انعام بھی دیا تھا۔ انہوں نے نیشنل جونئیر روونگ چمپن شپ کی کفالت بھی کی،جو حیدرآباد میں اکتوبر 15تا 19 ،2003 میں منعقد کی گئ۔ حیدرآباد شہر میں خوبصورت عمارتیں تعمیر کر کے وہ قومی تعمیر کر کے وہ تعمیرات میں بھی اہم کام انجام دے رہے ہیں۔ جن کی وجہ سے اس تاریخی کے لیے بھاری رقم خرچ کی جا رہی ہے تاکہ ملاذمتوں میں جواسپورٹس کو نہ ہوتا ہے اس میں پسماندہ طبقات ایک بلڈ رکی حیثیت سے بھی انہوں نے اپنا نقش چھوڑا ہے۔ بنجارہ جھیل کے قریب انہوں نے لیک ویواپار ٹمنٹس کی تعمیر بھی کی،جس کے بعد خان لطیف خان اسٹیٹ کی تعمیر ہوئ،جو حیدرآباد کی تاریخ میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ یہ عمارت فتح میدان اسٹیدیم کے روبرو واقع ہے ن جہاں ملٹی نیشنل کمپنیاں، ٹاٹا کنسلٹینس، بی ایس این ایل، ہیل کنیڈا جیسی معروف کار پوریٹ سیکشن کے دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کے علاوہ جلو خانہ میں جو تاریخی چار مینار کے قر یب لاڈ بازار کے عقب میں ہے، ایک خوبصورت شاپنگ کامپلکس بھی قائم کیا گیا ہے۔