امریکی کمپنی اے ایم ڈی‘ ہندوستان میں ملازمین کی تعداد میں اضافہ کی خواہاں

 چپ ساز کمپنی اڈوانسڈ مائیکرو ڈیوایئسس (اے ایم ڈی) جس کے ملازمین کی تعداد فی الوقت ہندوستان میں 1300 ہے بنگلورو اور حیدرآباد میں قائم دو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) مراکز کے لئے مزید انجینئرس کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔اے ایم ڈی کے سینئر وائس پریسیڈنٹ جم اینڈرسن نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ موجودہ دو مراکز کو فروغ دینے کے سلسلہ کو جاری رکھیں گے ۔دونوں مراکز پرملازمتوں کے کئی مواقع موجود ہیں تاہم انہوں نے ان ملازمتوں کی صحیح تعداد بتانے سے انکار کیا ۔یہ دریافت کرنے پر کہ کیا ہندوستان میں مزید آر اینڈ ڈی مراکز کھولے جائیں گے ؟ انھوں نے کہا اس بارے میں کسی منصوبہ کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیاکمپنی موجودہ مراکز کو مزید مستحکم کرے گی کیونکہ ہندوستان میں بہت کچھ عصری انجینئرنگ امور انجام دیئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے مرکز میں رائزن موبائیل پروسیسر پر بہت کچھ کام کیا گیا ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ کیلی فورنیا میں قائم اے ایم ڈی کے لئے ہندوستان ایک اہم مارکٹ ہے۔ انڈرسن نے کہا کہ بزنس پرسنل کمپیوٹر کے لئے یہاں بڑا مارکٹ دستیاب ہے اور کمپنی کا مقصد اپنے نئے تیار کردہ اشیا کی شدت کے ساتھ مارکٹنگ کرتے ہوئے کاروبار میں اضافہ کرنا ہے۔اس سال ابھی تک کمپنی کی جانب سے صارفین کے پرسنل کمپیوٹر کے لئے اعلیٰ کارکردگی والے چپس رائزن 3‘ 5 ‘ 7 متعارف کئے گئے ہیں۔ کارپوریٹ سرورس کے لئے اپیک نام کی ایک چپ اور ویگا نام کی گرافک چپ بھی متعارف کی گئی۔گذشتہ ہفتہ نئے مائیکرو پروسیسر چپ جو رائز پرو کہلاتے ہیں کمرشیل پرسنل کمپیوٹر کے لئے متعارف کئے گئے۔

جواب چھوڑیں