بچوں کا جنسی استحصال ، اخلاقی وبا بن گیا ہے: ستیارتھی

نوبل امن انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی نے آج یہاں کہا کہ بچوں کی عصمت ریزی اور جنسی استحصال ایک ایسی اخلاقی وبا بن گئی ہے ، جو ملک کا پیچھا کررہی ہے ۔ ستیارتھی نے بچوں کی خرید و فروخت اور جنسی استحصال کے بارے میں شعور بیداری کے لیے بھارت یاترا کا آغاز کرنے کے بعد کہا کہ ہم مزید خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے۔ ہماری خاموشی سے مزید تشدد پیدا ہورہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت یاترا کے ذریعہ بچوں کے جنسی استحصال اور خرید و فروخت کے خلاف ایک جنگ شروع کی جارہی ہے ۔ ہم بذریعہ ہذا اعلان کرتے ہیں کہ متاثرین اور ان کے ارکانِ خاندان کو خوف کے عالم میں جینے نہیں دیںگے اور نہ زانیوں کو آزاد اور بلاخوف و خطر گھومنے کی اجازت دیںگے۔ میں یہ قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں کہ ہر گھنٹے 8 بچے کھو جائیں اور دو کی عصمت ریزی کی جائے ۔ اگر ایک بھی بچہ خطرہ میں ہو تو سمجھیں کے ہندوستان خطرہ میں ہے۔ ہندوستان کو ہمارے بچوں کے لیے ایک بار پھر محفوظ بنانے بھارت یاترا شروع کی جارہی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ ایک فیصلہ کن جنگ ہوگی ، یہ ایک ایسی جنگ ہوگی ، جس سے ہندوستانی روح کی اخلاقیات کو دوبارہ بحال کیا جاسکے گا ۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنانے اس مارچ میں شامل ہوجائیں ، کیوںکہ یہ بچے ہندوستان کا مستقبل ہیں۔ بھارت یاترا مرکزی مملکتی وزیر فینانس و جہاز رانی پی رادھا کرشنن کی موجودگی میں وویکا نندا راک میموریل سے جھنڈی دکھاکر روانہ کی گئی۔ رادھا کرشنن ، کنیا کماری لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس یاترا کا مقصد بچوں کی خرید و فروخت و استحصال کو روکنا ہے اور 10 ہزار بچے نوبل انعام یافتہ شخصیت کی زیرقیادت اس مارچ میں حصہ لے رہے ہیں ۔ یہ یاترا 11 ہزار کیلو میٹر اور 22 ریاستوں کا احاطہ کرتے ہوئے 16 اکتوبر کو نئی دہلی میں ختم ہوگی۔ ٹاملناڈو میں یہ یاترا کنیا کماری ، سیلم ، مدورائی ، ویلور اور چینائی سے ہوتے ہوئے گذرے گی

جواب چھوڑیں