خواجہ آصف ایرانی قائدین کے ساتھ ٹرمپ کی افغان پالیسی پر تبادلہ خیال

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان کی نئی معلنہ پالیسی کے پس منظر میں علاقائی حالات پر ملک کی قیادت سے تبادلہ خیال کے لےے ایران کا دورہ کررہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی پالیسی برائے جنوبی ایشیا و افغانستان کااعلان کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردوں کے لےے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہاہے ۔ پاکستان ان الزامات پر برہم ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے بتایا کہ آصف دورہ کے موقع پر صدر ایران اور وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے ۔ انہوں نے بتایا ک ملاقات کے دوران باہمی مفادات اور علاقائی حالات پر تبادلہ خیال کیاجائے گا۔ علاوہ ازیں افغانستان میں نظم و ضبط کے حالات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا ۔ آصف کے ہمراہ قومی سلامتی مشیر نصیر خان جنجنوعہ اور معتمد خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی سفر کررہے ہیں ۔ قبل ازیں وزیر خارجہ نے چین کا دورہ کرتے ہوئے اپنے ہم منصب وانگ ای کے ساتھ نئی امریکی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا ۔ توقع ہے کہ وہ ملک کے لےے تائید کے حصول کی کوششوں کے حصہ کے طور پر ترکی اور روس کا بھی دورہ کریں گے

 

جواب چھوڑیں