مسلمانان ہند دین و شریعت پر عمل کا مزاج بنائیں : مسلم پرسنل لا بورڈ

 کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا ہے کہ تین طلاق کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں ایک طرف مسلم پرسنل لا کو محفوظ مانا گیا ہے وہیں تین طلاق کو کالعدم قرار دے کر مسلم پرسنل لا کے ایک حصہ پر پابندی لگا دی گئی ہے ، جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے ، اسی طرح اس فیصلے میں شریعت کا ما¿خذ صرف قرآن پاک کوتسلیم کیاگیاہے ، حالانکہ شریعت اسلامی کے ما¿خذ چار ہیں ، قرآن ، حدیث، اجماع ، قیاس، مذکورہ بالا باتوں کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہے کہ یہ فیصلہ مسلم پرسنل لا کے مطابق نہیں ہے اور دستور ہند میں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کاجو بنیادی حق تمام مذاہب کے ماننے والوںکو دیا گیاہے ، وہ حق بھی اس سے متا¿ثر ہورہاہے ۔اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ یہ مسئلہ خواتین سے متعلق ہے اس لئے پورے ملک کے طول و عرض میں خواتین اور شریعت سے واقف مردوں کے چھوٹے بڑے اجلاس منعقد کئے جائیں گے ، اور ہر جلسے میں ایک قرار داد منظور کرکے صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم ، چیف جسٹس ، وزیر قانون ، ویمن کمیشن اور لا کمیشن کو بھیجی جائے گی جس میں اس بات کا اعلان و اظہار کیا جائے کہ ہم مسلمان خواتین اور مرد شریعت اسلامی پر یقین رکھتے ہیں ، اور طلاق شریعت اسلامی کا حصہ ہے جس پر پابندی ہماری حق تلفی ہے ، اس لئے مسلم پرسنل لا پر عمل کی جو آزادی ہمیں حاصل ہے اسے برقرار رکھا جائے ،ایسے اجلاس منعقد کرنے اور قرار داد منظور کرکے اسے بھیجنے کے سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملک کی دینی و ملی جماعتوں ، تنظیموں ، اور اداروں سے تعاون چاہتاہے اور امید کرتاہے کہ اس اہم کام کی طرف فوری توجہ دی جائے گی ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تمام مسلمانان ہند کومتوجہ کرتاہے کہ دین و ایمان کی نعمت سب سے بڑی نعمت ہے اور شریعت اسلامی پر عمل ہر مسلمان کا فرض منصبی ہے اس لئے تمام مسلمانان ہند زندگی کے ہر حصہ میں شرعی احکام و قوانین پر عمل کا مزاج بنائیں ، غیر شرعی اعمال و رسوم سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ، اور ہر قیمت پر اپنے دین اور شریعت کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

جواب چھوڑیں