کشمیر میں امن کا پیڑ ابھی سوکھا نہیں ہے

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ وادی کشمیر کی صورتحال گذشتہ ایک برس میں قابل لحاظ حد تک بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے کچھ آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ انہوںنے دیرینہ مسائل کی یکسوئی کے لئے سبھی سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی۔ راج ناتھ سنگھ نے جو جموں وکشمیر کے 4 روزہ دورہ پر ہیں‘ اخباری نمائندوں سے کہا کہ کشمیر میں امن کا پیڑ ابھی سوکھا نہیں ہے۔ وفود سے ملاقات کے بعد میں نے سمجھا ہے کہ کشمیر کی صورتحال بڑی حد تک سدھری ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن سدھار آیا ہے۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورہ میں پولیس اور سی آر پی ایف جوانوں سے ملاقات کی۔ وہ فوجیوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا حکومت‘ علیحدگی پسندوں سے بات چیت کے لئے تیارہے‘ انہوں نے کہا کہ میں ہر اس شخص سے ملنے کے لئے تیار ہوں جو کشمیر کے مسائل کی یکسوئی میں ہماری مدد کرنا چاہتا ہو۔ رسمی یا غیررسمی دعوت کا کوئی سوال نہیں۔ جو لوگ بات چیت کرنا چاہتے ہیں انہیں آگے آنا چاہئے۔ میں یہاں ہمیشہ کھلے ذہن کے ساتھ آیا ہوں۔ ضرورت پڑے تو میں سال میں کشمیر کے 50 دورے کروں گا۔ ہم یہاں قیام ِ امن کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کسی بھی فریق کو جس سے بات چیت ہونی چاہئے‘ نظرانداز نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں جب اے ایس آئی عبدالرشید کو خراج ادا کررہا تھا اس وقت میں نے اس کی بیٹی زہرہ کی تصویر پھر دیکھی۔ میں زہرہ کا چہرہ بھلا نہیں سکتا۔ہم ہر کشمیری نوجوان کے چہرہ پر مسکراہٹ اور مسرت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اس سلسلہ میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ رشید کو ضلع اننت ناگ میں عسکریت پسندوںنے ہلاک کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت نے مئی 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تمام پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان سے تعلقات سدھار نے کی سنجیدہ کوششیں کیں۔ اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ دوست بدل سکتے ہیں پڑوسی نہیں لیکن ہمارا پڑوسی پاکستان کیا کررہا ہے ؟ ۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم پڑوسیوں سے اچھے تعلقات نہیں چاہتے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں گذشتہ 3 دن میں انہوں نے دیکھا ہے کہ امن کا پیڑ ابھی سوکھا نہیں ہے۔دستور کے آرٹیکل 35Aکو قانونی چیلنج پر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مرکز نے نہ تو کوئی پہل کی اور نہ وہ اس سلسلہ میں عدالت گیا۔ غیرضروری طورپر مسئلہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ این آئی اے کو علیحدگی پسندوں پر دبا¶ کے لئے استعمال کرنے کے الزامات کے بارے میں پوچھنے پر مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ این آئی اے ‘ آزاد تحقیقاتی ادارہ ہے اور قانون اپنا کام کرے گا۔ ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ راج ناتھ سنگھ نے ملک کے تمام عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاحت اور تجارت کے لئے کشمیر کا رخ کریں۔ وادی میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کشمیر کے عوام آپ کا خیرمقدم کریں گے ۔ وہ اسے پھر جنت بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مرکز ‘ کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے خصوصی تشہیری مہم شروع کرے گا۔

جواب چھوڑیں