ہندوستان سے روہنگیا مسلمانوں کے مجوزہ اخراج پر تنقید:ہائی کمشنر اقوام متحدہ زیدرعدالحسین

اقوام متحدہ انسانی حقوق سربراہ زید رعدالحسین نے آج ہندوستان کی ‘ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار واپس بھیجنے کی کوششوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ نسلی اقلیتی برادری کو اس کے اپنے ملک میں تشدد کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کونسل اجلاس میں یہاں زید نے کارکن صحافی گوری لنکیش کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ نفرت اور تفرقہ پسندی کے خلاف انتھک جدوجہد کرتی تھیں۔ ہندوستان کے مملکتی وزیر خارجہ کرن رجیجو نے 5 ستمبر کو کہا تھا کہ روہنگیا غیرقانونی امیگرنٹس ہیں اور ان کا اخراج ہونا ہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ نئی دہلی کو کوئی بھی نصیحت نہیں کرسکتا کیونکہ ہندوستان نے دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں جگہ دی ہے۔ ہندوستان میں تقریباً 40 ہزار روہنگیا مقیم ہیں اور ان میں 16 ہزارکو ریفیوجی ہونے کے کاغذات مل چکے ہیں۔ زید نے کہا کہ میں روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجنے کے ہندوستان کے اقدامات کی مذمت کرتا ہوں۔ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ رجیجو نے ریفیوجی کنونشن پر ہندوستان کے دستخط نہ کرنے کی بات کہی ہے۔ ہندوستان اجتماعی اخراج نہیں کرسکتا ۔ وہ لوگوں کو ایسے مقام پر واپس نہیں بھیج سکتا جہاں انہیں اذیت رسانی کا خطرہ ہو۔ ہندوستان میں گاورکھشا کے مسئلہ پر زید نے کہا کہ گایوں کے تحفظ کے بہانہ تشدد کی تازہ لہر اور لوگوں پر حملے تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو بھی دھمکایا جارہا ہے۔ لنکیش میں بنگلورو میں گذشتہ ہفتہ نامعلوم موٹرسیکل سوار بندوق برداروں نے گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ 55 سالہ صحافی کار سے اترکر اپنے مکان میں داخل ہورہی تھیں۔ اے پی کے بموجب اقوام متحدہ انسانی حقوق ادارہ کے سربراہ نے آج کہاکہ میانمار میں نسلی روہنگیا اقلیت کو جس تشدد اور ناانصافی کا سامنا ہے اور جہاں اقوام متحدہ انسانی حقوق کے تحقیقاتی عہدیداروںکو داخل ہونے نہیں دیا جارہا ہے‘ اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ نسلی تطہیر کی واضح مثال ہے۔ اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس کی شروعات میں زیدرعدالحسین نے پہلے 11 ستمبر کے حملوں کا تذکرہ کیا اور اس کے بعد میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوںنے برونڈی ‘ وینزویلا‘ یمن‘ لیبیا اور امریکہ میں بھی انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ زید نے جو اردن کے شہزادہ ہیں‘ میانمار کی ریاست رکھائن میں سفاکانہ فوجی کارروائی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میانمار کو یہ کہنا ترک کردینا چاہئے کہ روہنگیا مسلمان خود اپنے مکان جلارہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ میانمار نے انسانی حقوق کے عہدیداروں کو داخلہ کی اجازت نہیں دی ہے جس کے باعث موجودہ صورتحال کا پوری طرح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ نسلی تطہیر کی واضح مثال ہے۔ زید نے کہا کہ انہیں ان اطلاعات پر مزید تشویش ہے کہ میانمار کے حکام‘ سرحد پر بارودی سرنگیں بچھارہے ہیں تاکہ روہنگیا بنگلہ دیش سے واپس نہ لوٹ سکیں۔ زید نے افسوس ظارہ کیا کہ گذشتہ 3 برس میں دنیا تاریک تر اور خطرناک ہوگئی ہے۔

جواب چھوڑیں