روہنگیاپناہ گزینوں کو غیر آباد جزیرہ میں منتقل کرنے بنگلہ دیش کامنصوبہ

ہزاروں روہنگیا مسلمان پناہ گزیں جو پناہ کی تلاش میں میانمار کے تشدد سے فرار ہوئے تھے وہ بنگلہ دیش کے سیلاب زدہ بنجر جزیرہ پر اپنے نئے مکانات کی تعمیر پر مجبور ہوسکتے ہیں ۔ حکومت بنگلہ دیش نے روہنگیا مسلمانوں کی جزیرہ کو منتقلی کے لےے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے جبکہ غربت کا شکار ملک کو بڑھتے ہوئے بحران کا سامناہے جس میں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ بڑے پیمانہ پر لوگوں کی آمد کے بعد انہیں کہاں ٹھہرایاجائے ۔ بدھسٹ اکثریتی میانمار کی ریاست راکھین میں سخت فوجی کاروائی کے بعد وہاں کے لوگوں کے اخراج میں اضافہ ہوگیاہے ۔ تین لاکھ سے زائد روہنگیا ئی 25 اگست کو تشدد کے پھوٹ پڑنے کے بعد سے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہیں‘جبکہ میانمار کی سرحد سے قریب ضلع کاکس بازار میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کیمپس میں لوگوں کی تعداد حد سے متجاوز ہوگئی ہے اور وہاں مزید تین لاکھ افراد کااضافہ ہوجائے گا ۔ بنگلہ دیش کے عہدیداران اضافی کیمپس کی تعمیر کے لےے اراضیات کی تلاش میں ہیں جس میں ناقابل رہائش اور غیر آباد تنگار چار جزیرہ جسے حال ہی میں بھاسن چار سے دوبارہ موسوم کیاگیاتھا وہ بھی شامل ہے اگر روہنگیا قائدین اور اقوام متحدہ کے عہدیداروںنے اس اقدام پر عدم رضا مندی کااظہار کیاتھا ۔ بھاسن چار میگنا ندی کی کھاڑی پرواقع ہے اور قریب ترین آباد جزیرہ سند ویپ سے وہاں کشتی کے ذریعہ پہنچنے میںایک گھنٹہ لگتاہے ۔ علاوہ ازیں بنگلہ دیش کے سب سے بڑے جزیرہ ہتھیا سے بھی وہاں پہنچنے کے لےے دو گھنٹے لگتے ہیں۔ سرکاری عہدیداروں نے وہاں 2015 میں روہنگیا پناہ گزینوں کو آباد کرنے کی تجویز پیش کی تھی جبکہ کاکس بازار کے کیمپس نئے لوگوں کی آمد کی وجہ سے حد سے زیادہ توسیع اختیار کرگے ہیں ۔ تاہم گذشتہ سال ان اطلاعات کے درمیان اس منصوبہ کو بظاہر ملتوی کردیاگیا کہ کیونکہ گاد کا یہ جزیرہ جو 2006 میں سمندر سے ابھر آیا تھا وہ مدو جزر سے ہونے والے مسلسل سیلاب کی وجہ سے ناقابل رہائش ہے ۔ حکومت روہنگیایوں کے لےے نئے مقام کی تلاش کررہی ہے جس میں میانمار کی سرحد کے قریب کاکس بازار کیمپ بھی شامل ہے جو 2000 ایکر اراضی پر محیط رہے گا جہاں تقریباً2,50,000 روہنگیائی شہریوں کو ٹھہرایاجائے گا ۔وزیراعظم شیخ حسینہ نے منگل کو تعمیراتی مقام کادورہ کیا ۔چونکہ میانمار سے آنے والے روہنگیایوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے لہذا اندیشے ہیں کہ پناہ گاہیں تلاش کرنے والے تمام افراد کے لےے جگہ کی قلت ہوگی ۔

جواب چھوڑیں