ٹرمپ کے خلاف 4 ریاستیں عدالت پہنچ گئیں

کیلی فورنیا اور تین دوسری ریاستوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف پیر کے روز اپیل دائر کی جس میں ڈی اے سی اے نامی پروگرام کو ، جو خواب دیکھنے والوں کے پروگرام کے طور پر جانا جاتا ہے، ختم کر دیا گیا ہے۔سابق صدر براک اوباما نے یہ پروگرام ان نوجوانوں کے تحفظ کے لیے شروع کیا تھا جو بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔اس پروگرام میں رجسٹریشن کرانے والوں سے روزگار اور ملک بدری سے بچانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ڈی اے سی اے پروگرام میں 8 لاکھ سے زیادہ نوجوان رجسٹر ہیں۔ پروگرام کی منسوخی کے بعد ان کا مستقبل داو¿ پر لگ گیا ہے۔ اب وہ اپنے لیے ورک پرمٹ حاصل نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی اس کی تجدید کروا سکیں گے۔ اور اب حکام انہیں ملک بدر بھی کر سکتے ہیں۔کیلی فورنیا کے اٹارنی جنرل ایکسوائر بیسرا نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام سے بچوں کے طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے قانونی تحفظ سے محروم ہو گئے ہیں۔ورک پرمٹ نہ ملنے سے ان کے لیے اقتصادی مسائل پیدا ہوں گے۔ کیلی فورنیا آبادی کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے گنجان آباد ریاست ہے جو اپنی معیشت کے لیے زیادہ تر غیر ملکی مزوروں پر انحصار کرتی ہے۔کیلی فورنیا کے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ڈی اے سی اے پروگرام کی منسوخی سے ان کی ریاست کے لیے مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔وفاقی عدالت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل میں منی سوٹا، میری لینڈ اور مین ریاستیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔پچھلے ہفتے 16 دوسری ریاستوں کے اٹارنی جنرلوں نے برکلین فیڈرل کورٹ میں ایک الگ اپیل دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے سے اس قانونی تحفظ کی خلاف ورزی ہوئی ہے جو ڈی اے سی اے پروگرام سے وابستہ نوجوانوں کو حاصل تھا۔

جواب چھوڑیں