کانگریس کا امیدوار وزارت عظمیٰ بننے کیلئے بالکل تیار ہوں: راہول گاندھی

بیرونی سرزمین پر نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے اعلان کیا کہ وہ 2019 کے عام انتخابات میں پارٹی کا امیدوار وزارتِ عظمیٰ بننے کے لئے ”بالکل تیار“ ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قطعی منظوری ان کی پارٹی کو دینی ہے ۔گھرانہ شاہی سیاست پر بی جے پی بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امیت شاہ کی تنقید کا اکثر نشانہ بننے والے راہول گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی سبھی سیاسی جماعتوں میں یہ مسئلہ ہے۔ بیشترملک ایسے ہی چلتا ہے۔ پارٹی صدر کی حیثیت سے اپنی ماں کا جانشین بننا راہول گاندھی کے لئے طے مانا جاتا ہے۔ پیر کی رات یہاں ایک یونیورسٹی میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ اگلے لوک سبھا الیکشن میں وہ کانگریس کا امیدوار وزارت ِ عظمیٰ بننے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں بالکل تیار ہوں۔ گاندھی خاندان کے چشم و چراغ نے پہلی مرتبہ برسرعام آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے لئے کانگریس امیدوار بنیں گے۔ راہول گاندھی ‘ امریکہ کے 2ہفتے طویل دورہ پر ہیں۔ وہ اُس یونیورسٹی میں طلبا سے مخاطب تھے جہاں جواہر لال نہرو نے 1949 میں تقرر کی تھی۔ 47 سالہ راہول نے کہا کہ گھرانہ شاہی سیاست‘ ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا مسئلہ ہے لیکن بیشتر ملک ایسے ہی چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو‘ سماج وادی پارٹی کے ملائم سنگھ یادو کے لڑکے ہیں۔ ایم کے اسٹالن‘ ڈی ایم کے قائد ایم کروناندھی کے بیٹے ہیں۔ انوراگ ٹھاکر کے والد بی جے پی قائد پریم کمار دھومل ہیں۔ بالی ووڈ سوپر اسٹار امیتابھ بچن کا لڑکا ابھیشیک بچن‘ دھیرو بھائی امبانی کے لڑکے مکیش اور انیل بھی اس کی مثال ہیں۔ پورا ملک ایسا ہی ہے۔ صرف میری بات مت کیجئے۔ ہندوستان میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے مانا کہ 2012 کے آس پاس کانگریس کو گھمنڈ آگیا تھا۔ ہم نے لوگوں سے صلاح و مشورہ بند کردیا تھا جس کے نتیجہ میں ہماری پارٹی پچھلا الیکشن ہار گئی۔ انہوں نے مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک آن لائن مشین چلارہے ہیں جس کا مقصد گاندھی خاندان کی ساکھ بگاڑنا اور انہیں ”بے وقوف اور نااہل“ قراردینا ہے۔

جواب چھوڑیں