احمد آباد کی سدی سید مسجد سنگی جالی دار کھڑکیوں پر مبنی فن تعمیر کا شاہکار

سدی سید مسجد جو عام طورپر سدی سید جالی کی حےثےت سے مشہور ہے جو احمد آباد کی انتہائی مشہور مسجد ہے۔ اس کی تعمےر 1573مےں ہوئی تھی۔ مسجد کی دےوار پرلگائی گئی سنگ مرمر کی تختی اس بات کی توثےق کرتی ہے کہ اس کی تعمےر سلطان احمد شاہ بلال جھجر خان نے کی تھی جوسلطنت گجرات کے آخری سلطان شمس الدےن مظفر شاہ سوم کی فوج مےں جنرل تھے۔مسجد کی تعمےر سلطنت گجرات کے وجود کے آخری سال مےں عمل مےں آئی تھی ۔ مسجد پوری طرح کمانوں پر مشتمل ہے اور خوبصورتی سے تراش کردہ پتھر کی دس جالی والی کھڑکےوں پر مشتمل ہے جو اس کے بازو اور پچھلی کمانوں مےں نصب کئے گئے ہےں۔ عقب کی دےوار مےں مربع پتھروالے پےانلس ہےں جن کی جےومےٹری کی بنےاد پر ڈےزائننگ کی گئی تھی۔مرکزی راستے کے دونوں جانب دو خالی مقامات پر جالی دار پتھر کے سلابس نصب کئے گئے جس مےں آپس مےں لپٹے ہوئے درختوں اور پتوں کے علاوہ بنےادی خےال کی حےثےت سے کھجور کے درخت کے ڈےزائنس بنائے گئے ہےں۔پےچےدہ نقاشی کے ساتھ جالی دار پتھر کی کھڑکی ہی سےدھی سےد جالی ہے جو شہر احمد آباد کی غےر سرکاری نشانی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انڈےن انسٹےٹےوٹ آف مےنجمنٹ احمد آباد کے لوگو کے ڈےزائن کا سرچشمہ ہے۔ مسجد کی مرکزی کمان دار کھڑکی جہاں کوئی بھی شخص اےک اور پےچ دار جالی کو دےکھ سکتا ہے اس کی دےوار پتھر سے بنائی گئی شائد اس کا سبب ےہ ہے کہ مسجد مغلوں کے گجرات پر حملہ سے قبل منصوبے کے مطابق تکمےل نہےں پاسکی تھی۔

جواب چھوڑیں