حلیمہ یعقوب‘ سنگاپور کی پہلی خاتون صدر

حلیمہ یعقوب‘ چہارشنبہ کے دن سنگاپور کی پہلی خاتون صدر بن گئیں۔ صدارتی الیکشن کی شرائط پوری کرنے والی وہ واحد امیدوار تھیں۔ تنقید ہوئی ہے کہ ووٹنگ کے بغیر حلیمہ کو صدر بنادینا غیرجمہوری ہوگا۔ ملے نژاد 63 سالہ حلیمہ جمعرات کے دن حلف لیں گی۔ تقریب حلف برداری آستانہ(صدارتی قیام گاہ اور دفتر) میں ہوگی۔ وزیراعظم لی سینگ لونگ کے دفتر نے یہ بات بتائی۔ جاریہ سال کا صدارتی الیکشن ملے امیدوار کے لئے محفوظ تھا۔ دیگر 2 دعویدار تاجر محمد صالح مریکان اور فرید خان ‘ الیکشن کی شرائط پوری نہیں کرسکے۔ چینل نیوز ایشیا نے یہ اطلاع دی۔ حلیمہ نے کہا کہ ہر سنگاپوری کو شانہ بہ شانہ کھڑا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم ابھی عروج پر نہیں پہنچے ہیں۔ انہوںنے شہریوں سے خواہش کی کہ وہ قدرِ مشترک پر توجہ دیں نہ کہ اختلافات پر۔ 2016 میں سنگاپور کی پارلیمنٹ نے دستوری اصلاح کو منظوری دی تھی کہ کئی ثقافتوں والی شہری مملکت میں کسی نسلی گروپ کا امیدوار گذشتہ 30 برس میں صدر بنا ہو تو صدارتی الیکشن اُس گروپ کے لئے محفوظ کردیا جائے۔ حلیمہ نے کہا کہ میں سب کی صدر ہوں۔ سنگاپور میں صدر کا عہدہ عاملہ سے زیادہ نمائندگی والی نوعیت کا ہے۔ حلیمہ کی پیدائش 1954میں ہوئی۔ ان کے والد ہندوستانی نژاد اور ماں ملے تھیں۔ 5 بچوں کی ماں حلیمہ نے اپنا سیاسی کیرئیر پیپلز ایکشن پارٹی (پی اے پی) سے شروع کیا تھا جو 1959 سے ملک پر حکومت کررہی ہے۔ وہ 2011 میں پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئی تھیں۔ انہیں پہلا عہدہ 2011 میں وزیر کمیونٹی ڈیولپمنٹ ‘ نوجوانان اور کھیل کا ملا تھا۔ وہ 2013 میں اسپیکر بنی تھیں۔ اگست 2017 میں انہوں نے اسپیکر کا عہدہ چھوڑدیا اور پی اے پی سے مستعفی ہوگئیں تاکہ صدارتی الیکشن لڑسکیں۔

جواب چھوڑیں