دینی مدارس کیخلاف کارروائی میں سیاست کارفرما نہیں :وزیر اقلیتی بہبود یوپی

حکومت ِ اترپردیش نے وضاحت کی ہے کہ ریاستی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی جانب سے مسلمہ مدارس کی مالی امداد معطل کرنے میں کوئی سیاسی عنصر شامل نہیں ہے ۔ حکومت نے کہا کہ بے قاعدگیوں کے بارے میں تحقیقات کے بعد اس معاملہ کو کابینہ میں پیش کیا جائے گا ، تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ ان مدارس کو مالی امداد جاری رکھی جائے یا نہیں۔ یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ ریاستی حکومت نے مالیاتی اور دیگر بے قاعدگیوں کا پتہ چلنے پر چہارشنبہ کے روز 46 دینی مدارس کی امداد معطل کردی تھی۔ یوپی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے مسلمہ ہزاروں مدارس بشمول چند امدادی مدارس کا مسلمہ موقف ختم کیے جانے کا خطرہ ہے ، کیوںکہ وہ اگست میں اقلیتی بہبود شعبہ کی جانب سے شروع کیے گئے پورٹل پر ریاستی حکومت کی ہدایات کے مطابق معلومات اپ لوڈ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے مجموعی طور پر 19,143 مدارس کو مسلمہ موقف عطا کیا ہے اور تقریباً 11 ہزار مدارس نے تا حال سرکاری پورٹل پر معلومات اپ لوڈ نہیں کی ہیں۔ گذشتہ روز رجسٹریشن کا آخری دن تھا ۔

جواب چھوڑیں