مرکزی حکومت کی کوئی کشمیر پالیسی نہیں: غلام نبی آزاد

مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے لئے بات چیت کی پہل میں مبینہ ناکامی پر مرکز کی بی جے پی زیرقیادت حکومت کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد نے آج کہا کہ وادی کی صورتحال اس لئے ابتر ہوئی کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کی کوئی پالیسی نہیں۔ آزاد نے یہاں اخباری نمائندوں سے کہا کہ جموں وکشمیر کی اہمیت کے مدنظر وفد تشکیل دیاگیا۔ مرکز میں جب سے بی جے پی اور ریاست میں پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت زیراقتدار آئی ہے ہر گذرتے دن کے ساتھ صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ مرکز میں یوپی اے دورِ حکومت اور ریاست میں کانگریس۔ نیشنل کانفرنس دورِ حکومت میں ہمہ رخی حکمت عملی اختیار کی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ترقی کے سلسلہ میں اور بے روزگاری سے نمٹنے یوپی اے حکومت نے ہمہ رخی حکمت عملی اختیار کی تھی۔ علاوہ ازیں مسئلہ کی یکسوئی کے لئے باہمی بات چیت اور گول میز کانفرنس کا بھی اہتمام ہوا تھا۔ اعتماد سازی اقدام کے طورپر پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے تجارت کے لئے راستے بھی کھولے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مرکز کی بی جے پی زیرقیادت حکومت کے پاس مسئلہ کشمیر پر کوئی پالیسی نہیں ہے۔ مرکز دو قدم آگے بڑھتا اور 10 قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے اسی لئے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے یہ گروپ تشکیل دیا۔ گروپ کے نئی دہلی میں تین چار اجلاس ہوچکے ہیں لیکن ہم نے سوچا کہ بہتر ہوگا کہ زمینی صورتحال کا پتہ چلانے ریاست کا دورہ کیاجائے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ گذشتہ ہفتہ ہم جموں گئے تھے اور آج سری نگر آئے ہیں۔

جواب چھوڑیں