پسماندہ طبقات کی بہبودکےلئے منصوبوں کو قطعیت دیں :کے سی آر

 تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو¿ نے آج عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ پسماندہ طبقات کی تمام برادریوں کی بہبود کے لےے منصوبوں کو قطعیت دیں ۔ پسماندہ طبقات کی بہبود کے مسئلہ پر چیف منسٹر نے یہاں وزراء کے ساتھ اعلی عہدیداروں کا جائزہ اجلاس طلب کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے ہدایت دی کہ اےسے پروگرام وضع کریں ‘جس پر عمل آوری کے ذریعہ پسماندہ طبقات کی تمام برادریوں کو ان پروگراموں کافائدہ پہنچ سکے ۔ اس طرح کے بہبودی پروگرامس پر آئندہ ماہ سے عمل آوری کی جائے گی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ اےسے افراد جو خاندانی پیشہ ترک کرتے ہوئے متبادل پیشہ اختیار کرنے کے خواہاں ہیں ‘انہیں فی کس ایک تا2لاکھ روپئے تک مالی امداد دی جائے گی۔ اس سلسلہ میں بی سی طبقات کی برادریوں کاایک اجلاس بہت جلد طلب کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایک ہزار کروڑ روپئے سے موسٹ بیاک ورڈ کلاسس کارپوریشن تشکیل دیاگیا ہے ۔ ان ‘ انتہائی پسماندہ طبقات کی ترقی کے لےے خصوصی پروگرام شروع کئے جانے چاہئے ۔ پسماندہ طبقات کی ترقی کے لےے منعقدہ جائزہ اجلاس میں وزراءجو گورامنا اور ٹی ہریش راو¿‘ ڈپٹی اسپیکر اسمبلی پدما دیویندر ریڈی ‘ صدر نشین ایم بی سی کارپوریشن ٹی سرینواس اور دیگر شریک تھے۔چیف منسٹر نے کہاکہ پسماندہ برادریوں میں اےسے خاندان ہیں جو برسوں سے آبائی پیشہ سے وابستہ ہیں ‘جن سے پورے سماج کو مدد ملتی ہیں ۔ اگر یہ برادریاں اپنے پیشہ کے کام کرنا بند کردیں تو پتہ نہیں سماج کا کیا حال ہوگا ۔حقیقت یہ ہے کہ اچھے انداز میں زندگی بسر کرنا محال ہوجائے گا۔ سماج میں دھوبی ‘ نائی‘ درزی‘ کارپنٹر‘کمہار اےسے ہی آبائی پیشہ سے وابستہ خاندانوں کی اہمیت آج بھی برقرار ہے ۔ یہ تمام افراد جو خاندانی پیشہ اختیار کئے ہوئے ہیں ‘ کام کرتے ہوئے کمائی کرتے ہیں ‘ان خاندانی پیشہ سے وابستہ افراد پر سماج منحصر ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہاکہ بی سی طبقات جو ریاست کی جملہ آبادی کا نصف ہیں ‘سے غربت کے تدارک کے لےے سنجیدہ اقدامات کرناچاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ چرواہوں اور اور کرماس کے لےے 4 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف سے بھیڑ بکریوں کی پالن اسکیم شروع کی گئی ہے ۔ مچھلی پالن کو فروغ دینے کے لےے ایک ہزار کروڑ روپئے سے خصوصی پروگرام شروع کیاگیا ہے ۔ بافندوں کی بہبود کے لےے 1200 کروڑ کے مصارف سے خصوصی پروگراموں کو روبہ عمل لایاجارہاہے ۔اس طرح تاڑی تاسندوں کی ترقی اور ان کی بہبود کے لےے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انتہائی پسماندہ طبقات کے خاندانوں کی مالی امداد کی فراہمی کے لےے ایم بی سی کارپوریشن قائم کیاگیاہے ۔ ان مقاصد کے حصول کے لےے اسکیمات تیار کی جائیں گی جس کے تحت ہر سال 60 ہزار تا70 ہزار مستحق خاندانوں کو ایک لاکھ تا 2لاکھ روپئے کی مالی امداد دی جائے گی۔

 

جواب چھوڑیں