حماس نے غزہ میں اپنی حکومت تحلیل کردی‘انتخابات کرانے پر آمادہ

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے فلسطینی علاقے غزہ پٹی پر سے اپنا کنٹرول ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اِس فلسطینی علاقہ پر گزشتہ ایک دہائی سے حماس نے اپنا متوازی حکومتی نظام قائم کر رکھا ہے۔فلسطینی گروپ حماس نے اتوار سترہ ستمبر کو ایک ای میل پر جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے غزہ پٹی کی انتظامیہ محمود عباس کی قیادت میں قائم نمائندہ حکومت کے حوالے کرنے پر تیار ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ پٹی کی انتظامی کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے گا اور اب محمود عباس کی ایڈمنسٹریشن کے اہلکار، جتنی جلدی ہو سکے یہاں کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیں۔یہ پیش رفت مصری دارالحکومت میں جاری ایک مذاکراتی عمل کا نتیجہ قرار دی گئی ہے۔ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی قیادت میں ایک وفد گزشتہ ایک ہفتے سے قاہرہ میں مقیم ہے اور مصری حکام کے ساتھ فلسطینی علاقے کے سیاسی تنازعہ کے ساتھ ساتھ انتظام و انصرام کے معاملے پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی تنظیم الفتح کا ایک وفد دو روز قبل اس مذاکراتی عمل میں شریک ہوا ہے۔ الفتح ویسٹ بینک پر کنٹرول رکھتی ہے اور اسی کو فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ محمود عباس کا تعلق بھی اسی فلسطینی تنظیم سے ہے۔فلسطین میں سرگرم حماس تنظیم اور حریف تنظیم الفتح کے درمیان دیرینہ عہ کو ختم کرنے کے لیے ایک سمجھوتہ طے پا گیا ہے جس کے تحت حماس نے الفتح کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے، غزہ کی انتظامی کمیٹی کو تحلیل کرنے اور عام انتخاب منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ بات حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہی گئی ہے۔فلسطین اتھارٹی جس کا کنٹرول الفتح کے پاس ہے، کے صدر محمود عباس نے 2007ئ میں حماس کے ساتھ غزہ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑائی کی تاہم اس میں حماس غزہ کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔اس سے قبل دونوں گروپوں کے درمیان غزہ اور مغربی کنارے میں اقتدار میں شراکت اور ان کے درمیان مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔

جواب چھوڑیں