روہنگیا مسلمانوں کا میانمار سے کوئی تعلق نہیں: میانمار فوجی سربراہ جنرل لینگ

میانمار کی فوج کے سربراہ نے روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کا نسلی گروپ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی حکومت نے روہنگیا مہاجرین کو کیمپوں تک محدود رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔میانمار کی فوج کے سربراہ جنرل مِن آنگ لینگ نے اپنے فیس ب±ک پیج پر روہنگیا تنازعے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں جنرل لینگ نے کہا ہے کہ روہنگیا تنازعے پر ا±ن کے ملک کے سبھی حلقوں اور طبقوں میں اتحاد کی ضرورت ہے اور اسی باعث بحرانی صورت حال سے نمٹا جا سکے گا۔فوجی جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کا ا±ن کے ملک میانمار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جنرل نے اپنی تحریر میں یہ بھی واضح کیا کہ روہنگیا، میانمار میں شناخت کے متلاشی ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ کبھی بھی اِس ملک کا نسلی گروپ نہیں رہے۔ جنرل لینگ نے اس بیان میں روہنگیا مسلمانوں کو بنگالی بھی قرار دیا۔مبصرین کے مطابق اس بیان میں میانمار کی فوج کے سربراہ نے کم و بیش وہی موقف بیان کیا ہے جو اس ملک کی اکثریتی بدھ مت ماننے والی آبادی اور بدھ راہب رکھتے ہیں۔ یہ حلقے روہنگیا مسلمانوں کو ’بنگالی‘ قرار دیتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں روہنگیا مسلمانوں کی مسلسل بے گھری کی کیفیت نے عالمی تنازعے کی صورت اختیار کر لی ہے۔روہنگیا مہاجرین کے خلاف میانمار کے فوجی آپریشن کی مذمت عالمی سطح پر کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوبل انعام یافتہ سیاستدان آنگ سان سوچی ایک اہم ملکی لیڈر ضرور ہیں لیکن ا±ن کا زور اپنے ملک کی طاقتور فوج کے سربراہ پر کم ہی چلتا ہے۔ وہ ابھی تک واشگاف انداز میں اس بحران پر کوئی بات نہیں کر پائی ہیں اور اس باعث انہیں عالمی تنقید کا سامنا ہے۔امریکی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پیدا تنازعے کی پرتشدد صورتحال پر امریکا کو گہری تشویش ہے۔ اس تشویش کو حکومتی حلقوں تک پہنچانے کے لیے ایک امریکی ایلچی کو روانہ کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے میانمار کی فوج پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ایک منظم طریقے سے روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

 

جواب چھوڑیں