ایلفنسٹن کو پربھا دیوی سے موسوم کرنے کا مسئلہ پھر زیربحث

ایلفنسٹن روڈ‘ جس نے گزشتہ ہفتہ کی بدترین بھگدڑ اور اس میں23افراد کی ہلاکت کے بعد سرخیاںبٹوری تھیں، ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ کونکن اتہاس پریشد جس نے مہاراشٹرا کے کونکن علاقہ پر گہری تحقیق کی ہے نے زور دے کر کہا کہ ایلفنسٹن روڈ ریلوے اسٹیشن کو”پربھا دیوی“ کے نام سے موسوم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پریشد کے صدر رویندر لاڈ نے کہا کہ بعض مقامات کو ماضی کے حکمرانوں اور اشرافیہ کے نام سے موسوم کرنے کا یقینا ایک مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی یا بامبے کے ورثہ کو آئندہ نسلوں کے لیے خراج کے طورر پر برقرار رکھا جانا چاہیے تا کہ وہ جان سکیں کہ نہوں نے اس عظیم شہر کے لیے کیا کیا۔“ انہوں نے کہا کہ ”ہم پربھادیوی کے نام کے خلاف نہیں جو کسی دیگر مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جیسا کہ محلے میں مندر کی موجودگی اس کا اشارہ کرتی ہے۔ مگر مذہبی یا دیگر جذبات‘ تاریخ کو نہیں مٹانے چاہیے۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممبئی شہر کی ترقی میں بشمول تعلیمی ، طبی اداروں کے قیام میں ان افراد کا تعاون لائق ستائش ہے اور بدلے میں انہوں نے ان سے کچھ نہیں چاہا کیوں کہ سماج کو دینا ان کا رویہ تھا۔“ انہوں نے ایلفنسٹن کالج،برج، کنگ ایڈورڈ، ہفکین، ،ڈنکن کی مثالیں پیش کیں جن کے نام سے آج بھی ادارے موجود ہیں اور جنہیں ان کے حقیقی ناموں کے ساتھ ورثہ کے طور پر برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ”مغل حکمرانوں کے مقابلے میں انگریزوں نے کچھ دیا ہے جسے طویل عرصہ تک یاد رکھنے کی ضرور ت ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ”جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ ہم برطانوی حکمرانوں کو نہیں کوستے جنہوں نے ہمیں بے حد دیا ہے اور ممبئی شہر کی ہمہ جت ترقی میں تعاون کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی اور کہا کہ مغل حکمرانوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے رائے پیش کی کہ ”ایسی عظیم شخصیات کی عمارتوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے۔“ لاڈ نے شیواجی مہاراج کی مثال پیش کی جس نے مغل حکمراں افضل خان کے لیے پرتاپ گڑھ کے تہہ خانے میں ایک یادگار تعمیر کی اس حقیقت کے باوجود کہ وہ ان وہ ان کے مکمل طور پر مخالف ہیں۔ یہ اشارہ ہے کہ کس طرح قدم تاریخ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔“

 

جواب چھوڑیں