عمران خان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔الیکشن کمیشن نے اسلام آباد پولیس کے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کو 26 اکتوبر کو کمیشن کے سامنے پیش کریں۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو الیکشن کمیشن نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ان کے خلاف زیر سماعت توہین عدالت کے مقدمے میں بارہا نوٹسز جاری کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے پر جاری کیے ہیں۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کی جانب سے جمع کرایا جانے والا جواب بھی مسترد کر دیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلینج کرنے کا فیصلے کیا ہے۔عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی تھی جب پارٹی کو ملنے والی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو عمران خان نے تعصب پر مبنی قرار دیا تھا۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی ہے۔سماعت پر نہ تو عمران خان اور نہ ہی ان کے وکیل پیش ہوئے جس پر الیکشن کمیشن نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔اس بینچ میں شامل الیکشن کمیشن صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے ممبران نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ عمران خان کو ایک مرتبہ پھر پیشی کے لیے سمن جاری کیے جائیں یا آئندہ سماعت پر اپنی حاضری یقینی بنانے کے لیے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم جاری کیا جائے۔تاہم چیف الیکشن کمشنر اور صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے اراکین الیکشن کمیشن نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر ہی اصرار کیا تھا۔

جواب چھوڑیں