وزارت محنت نے تنخواہ بروقت ادا نہ کرنیوالے اداروں کیخلاف 4سزائیں مقرر کردیں

    ریاض– – – – – وزارت محنت و سماجی فروغ نے واضح کیا ہے کہ تنخواہ بروقت ادا نہ کرنے والے اداروں کے خلاف 4سزائیں مقرر کر دی گئیں۔ جو ادارہ بھی بینکوں کے ذریعے اپنے ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا نہیں کرے گا اسے مقررہ سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 2018ء کے آخر میں “تحفظ محنتانہ”پروگرام مکمل طور پر نافذ کر دیا جائیگا۔ اس پروگرام کا 12اواں مرحلہ یکم نومبر 2018ء سے شروع کیا جائے گا۔ اس کے دائرے میں وہ ادارے شامل ہوں گے جن کے کارکنان کی تعداد 40سے 59کے درمیان ہو گی۔ وزارت کے تخمینے کے مطابق ایسے اداروں کی تعداد 14288ہے۔ المدینہ اخبار کے مطابق وزارت نے جو 4سزائیں مقرر کی ہیں۔  ان کی تفصیل یہ ہے کہ بروقت تنخواہ ادا نہ کرنے پر فی کارکن 3ہزار ریال جرمانہ ہو گا۔ وزارت ایسے ادارے کا کمپیوٹر بند کر دے گی البتہ ورک پرمٹ کے اجراء اور توسیع کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ وزارت نے توجہ دلائی ہے کہ اگر کسی ادارے نے مسلسل 3ماہ تک تنخواہ ادا نہ کی تو وزارت اس کو کسی بھی طرح کی کوئی بھی سہولت مہیا نہیں کرے گی۔ اس ادارے کے ملازمین کو آجر کی منظوری کے بغیر دیگر اداروں میں نقل کفالہ کی اجازت ہوگی۔ خواہ کارکن کا ورک پرمٹ ختم نہ ہوا ہو۔ کارکن کے حقوق ملازمین کے اختلافات طے کرانے والے ادارے کے حوالے ہو جائیں گے۔ وزارت محنت کے ترجمان خالد اباالخیل نے بتایا کہ اب تک 30فیصد ادارے ایسے ہیں جنہوں نے تحفظ محنتانہ قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ قانونی مشیر ڈاکٹر منصور الخنیزان نے بتایا کہ متاثر کارکن اپنے علاقے کے مکتب العمل سے رجوع کر کے تنخواہ نہ ملنے کی شکایت کر سکتا ہے اگر اسے وہاں سے انصاف نہ ملے تو لیبر کمیٹی یا محکمہ جاتی عدالت پہنچ کر اپنا مقدمہ پیش کرنے کا مجاز ہو گا۔ عدالت سے رجوع کرنے کا مطلب وزارت محنت کی شکایت کے مترادف مانا جائے گا اور اگر وزارت قصور وار ثابت ہوئی تو کارکن کو پہنچنے والے نقصان کے معاوضے کی ادائیگی میں وزارت بھی شریک ہو گی۔

جواب چھوڑیں