ہر ضلع میں وقف املاک کے تحفظ کےلئے خصوصی اسکواڈ اور انسپکٹر کا عارضی تقرر۔ محمود علی کی ہدایت

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے جن کے پاس ریونیو کا قلمدان بھی ہے ، کہا ہے کہ ریاست کے تمام31 اضلاع میں وقف اراضیات کی نشاندہی کےلئے خصوصی اسکواڈ جسے فلائنگ اسکواڈ بھی کہا جائے گا ‘ کے ساتھ انسپکٹر کا تقرر کیا جائے گا ۔ ےہ اسکواڈ متعلقہ اضلاع میں وقف اراضیات اور املاک کی نہ صرف نشاندہی کرے گا بلکہ وقف اراضیات کو مکمل جامع سروے کے دوران، ریونیو ریکارڈز میں شامل کرائے گا ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے سینر و اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ آج سکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود علی نے ےہ بات بتائی ۔ اس اجلاس میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم، مشیر اے کے خان، سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود سید عمر جلےل، اور دیگر عہدیدار شرےک تھے۔ اجلاس میں وقف اراضیات و املاک کے تحفظ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ وقف پراپرٹیز کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ جس کو روکنے کے علاوہ وقف املاک کا تحفظ کرنا حکومت کا اولین مقصد ہے ۔ تاہم موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کےلئے خاطر خواہ عملہ دستیاب نہیں ہے ۔ اس لئے انسپکٹرس اور خصوصی اسکواڈ کو عارضی اساس پر تقرر کیا جارہا ہے۔ اراضیات کے جامع سروے تک ےہ انسپکٹرس اور اسکواڈس کارکرد رہےں گے ۔ اس خصوصی اسکواڈ اور انسپکٹرس کو وقف اراضیات کی نشاندہی کسے کریں اور وقف ریکارڈز کا تحفظ ‘ان کی دےکھ بھال اور اس وقف املاک کے ریکارڈز کو ریونیو ریکارڈز میں شامل کس طرح کیا جائے ، اس بارے میں ایم سی ایچ آر ڈی میں تربیت فراہم کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے وقف بورڈ کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے ۔ وقف بورڈ‘ ذرائع آمدنی میں اضافہ کرنے میں ناکام رہا ہے اور بورڈ از خو د ملازمین کی تنخواہوں کی ادائےگی کے موقف میں بھی نہیں ہے ۔ بورڈ ملازمین کی 60 فیصد تنخواہیں، سرکاری خزانہ سے اداکی جارہی ہےں ۔ انہوںنے کہا کہ وقف بورڈ ، کئی اثاثوں کا مالک ہے اور اس کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے ۔ جاری نظام میں خامیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کرتے ہوئے بورڈ‘ آمدنی میں اضافہ کرتے ہوئے اپنے ملازمین کی تنخواہےں ادا کرسکتا ہے ۔ اےک مثال کا حوالہ دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ کراےہ دار کے بجائے وقف املاک پر درمیانی افراد قابض ہےں ان املاک پر قابض افراد (درمیانی افراد) سے کراےہ دار بھاری رقم وصول کرتے ہےں اور اس وصول شدہ رقم میں سے معمولی رقم، بطور کراےہ ادا کرتے ہےں۔ انہوںنے وقف املاک اور اداروں کے کرایوں میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وقف املاک جن کے قبضہ میں ہے ۔ ان افراد کو کراےہ دار بنایا جانا چاہئے انہوںنے ےہ طریقہ کار فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت دی ۔ وقف املاک کو ریونیوریکارڈز میں شامل کرنے کے ضمن میں انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں غیر متنازعہ املاک کو ریونیور ریکارڈ میں شامل کیا جائے گا دوسرے مرحلہ میں متنازعہ وقف املاک کی پیچیدگیوں کو دور کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں ریکارڈز کو درست کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں