بی جے پی گجرات میں امکانی شکست سے خوفزدہ: کانگریس

کانگریس نے جمعہ کے دن مودی حکومت پر الیکشن کمیشن کے کام کاج میں ”سنگین ترین دخل اندازی“ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ گجرات الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے کا فیصلہ دستوری اصولوں کی بیخ کنی (جڑ کاٹنا) ہے۔ کانگریس نے کہا کہ یہ الیکشن میں خود کو شکست سے بچانے کا ”شرمناک حربہ“ ہے۔ کانگریس ترجمان ابھیشیک منوسنگھوی نے نئی دہلی میں میڈیا نمائندوں سے کہا کہ بی جے پی‘ الیکشن کمیشن کو الیکشن آمیشن میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کے شرمناک حربے گجرات میں عنقریب منعقد شدنی اسمبلی الیکشن میں شکست سے خود کو بچانے کی آخری کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گجرات اسمبلی الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے کا فیصلہ سبھی جماعتوں کو مقابلہ کا مساوی میدان فراہم کرنے کے تصور پر بنیادی حملہ ہے۔ یہ چھوٹا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے کئی دستوری اصولوں کی جڑیں کٹ جاتی ہیں۔ یہ شرمناک طریقہ سے سنگین ترین دخل اندازی ہے۔ اس سے آزادانہ و منصفانہ انتخابات منعقد کرنے کے ہندوستانی دستور کے بنیادی ڈھانچہ کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے الیکشن کمیشن کی اتھاریٹی اور اختیارات کی نفی ہوتی ہے۔ ڈوبنے والا شخص تنکے کو بھی بڑی چیز سمجھ لیتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جمعرات کے دن ہماچل پردیش اسمبلی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا لیکن اس نے گجرات کے تعلق سے کوئی اعلان نہیں کیا حالانکہ دونوں اسمبلیوں کی میعاد جنوری میں ختم ہورہی ہے۔ ابھیشیک منو سنگھوی نے دعویٰ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کو پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لئے رسی کا سہارا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کام کاج پر شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ گجرات اسمبلی الیکشن کی تاریخ کا فوری اعلان کیا جائے اور مثالی ضابطہ اخلاق فوری لاگو کردیا جائے۔ کانگریس قائد نے کہا کہ بی جے پی نے گجرات اسمبلی الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کروایا ہے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی 16 اکتوبر کو گجرات میں جھوٹے سانتاکلاز کی طرح مختلف ترغیبات کا اعلان کرسکیں۔ کانگریس قائد نے کہا کہ مودی نے لوک سبھا اور اسمبلی کے بہ یک وقت انتخابات کی بار بار وکالت کی ہے ۔ بی جے پی بھی اس کی حمایت کرتی ہے لیکن 2 ریاست کے انتخابات بہ یک وقت نہیں کرائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گجرات اور ہماچل پردیش میں اسمبلی الیکشن 1998 سے بہ یک وقت ہوتے رہے ہیں۔اس میں 2002-03 کا استثنیٰ ہے کیونکہ اس وقت گجرات میں فسادات برپا ہوئے تھے۔

 

جواب چھوڑیں