روہنگیا مسئلہ کی 21 نومبر کو تفصیلی سماعت

سپریم کورٹ نے آج طے کیا کہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار بھیجنے کے حکومت کے فیصلہ سے پیدا پیچیدہ مسئلہ کی تفصیلی سماعت 21 نومبر کو کی جائے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کردیا کہ اس دوران کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہو تو درخواست گذاروں کو آزادی ہوگی کہ وہ مدد کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا‘ جسٹس اے ایم کھنولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ مسئلہ بہت گہرا ہے لہٰذا اس میں مملکت کا بڑا رول ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کردیا کہ مکمل سماعت کی ضرورت ہے۔ وہ درخواست گذاروں کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل فالی ایس نریمان یا کسی اور سینئر وکیل کی باتوں میں نہیں آئے گی۔ بنچ نے کہا کہ ہم کوئی جذباتی بحث یا دلائل کی اجازت نہیں دیں گے۔ مختصر سماعت میں بنچ نے کہا کہ مرکز‘ روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کو نکال باہر نہ کرے لیکن ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل (اے ایس جی ) تشار مہتا نے گذارش کی کہ آرڈر میں یہ بات نہ لکھی جائے کیونکہ ریکارڈ پر آنے کے بین الاقوامی اثرات ہوں گے۔ اے ایس جی نے کہاکہ ہمیں اپنی ذمہ داری معلوم ہے۔ بنچ نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ کو تمام پہلو¶ں جیسے قومی سلامتی‘ معاشی مفاد‘ لیبر مفاد اور بچوں‘ عورتوں‘ بیماروں اور بے قصور افراد کے تحفظ کے لحاظ سے دیکھنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ روہنگیا مسئلہ بہت بڑا ہے اور مملکت کو اس پیچیدہ مسئلہ سے نمٹتے وقت قومی مفادات اور انسانی حقوق کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ اس مسئلہ سے قومی سلامتی ‘ معاشی مفادات اور انسانیت جڑے ہیں۔ سینئر وکیل فالی ایس نریمان نے کہا کہ تمام روہنگیا چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہندو‘ دہشت گرد نہیں ہیں اور حکومت اس طرح سبھی کو نکال باہر کرنے کے احکام جاری نہیں کرسکتی۔ بنچ نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ معاملہ انسانیت کا ہے لیکن قومی مفاد بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ بچے اور خواتین اس تعلق سے کچھ نہیں جانتے۔ دستوری عدالت ہونے کے ناطہ ہم اس سے لاعلم نہیں ہوسکتے۔

جواب چھوڑیں