سی بی آئی جج نے ریاضی کے معمہ کی طرح آروشی کیس حل کرنے کی کوشش کی: الٰہ آباد ہائی کورٹ

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے آروشی تلوار قتل کیس میں تحت کی عدالت کے جج پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ جج نے کیس کے ثبوت اور شہادتوں پر باریکی سے نظر نہیں ڈالی اور اسے ریاضی کے ٹیچر یا ایک فلم ڈائرکٹر کی طرح حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوںنے اپنے مفروضہ کو ٹھوس شکل دی۔ فاضل جج (ایس ایل یادو‘ سی بی آئی اسپیشل کورٹ‘ غازی آباد) نے اپنے انداز میں چیزوں کو دیکھا اور نتیجہ اخذ کیا۔ کیس کی واقعاتی شہادتوں کی اَن دیکھی کی گئی۔ جسٹس اروند کمار مشر نے جو جسٹس بی کے نارائن کی زیرقیادت بنچ کا حصہ تھے‘ جس نے تلوار جوڑے کو بری کیا‘ کہا کہ چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھا جاتا۔ انہوںنے کہا کہ فاضل جج نے ثبوت اور شہادتوں کی اَن دیکھی کی اور ریاضی کے کسی معمہ کی طرح کیس کو حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ فاضل جج ‘ ریاضی کے ٹیچر کی طرح کام نہیں کرسکتے۔ جسٹس مشرا نے کہا کہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایسے حساس کیسس میں جج کو بڑی احتیاط سے کام لینا ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کے بموجب 273 صفحات کے فیصلہ میں اپنا 10 صفحات کا فیصلہ لکھتے ہوئے جسٹس مشرا نے کہا کہ تحت کی عدالت کے فاضل جج نے کیس کے ثبوت اور شواہد پر باریکی سے توجہ نہیں دی اور ریاضی کے معمہ کی طرح اسے حل کرنے کی کوشش کی۔ سخت ریمارکس میں انہوں نے کہا کہ تحت کی عدالت ‘ریاضی کے ٹیچر کی طرح کام نہیں کرسکتی۔

جواب چھوڑیں