معلمین شاگردوں کے معاملے میں پیغمبر اسلام کا طرز اپنائیں، امام حرم

 مکہ مکرمہ…. مسجد الحرام کے امام وخطیب شیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی نے واضح کیا ہے کہ غلطیوں کو ٹھیک کرنے اور انسانی وقار کا لحاظ رکھنے کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاطر ز عمل منفرد تھا۔ پیغمبر اسلام شاگردوں کے حوالے سے بھی اساتذہ کیلئے حسین نمونہ ہیں۔ معلمین شاگردوں کے معاملے کے سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل اپنائیں۔ وہ ایمان افروز روحانی ماحول میں جمعہ کا چشم کشا خطبہ دے رہے تھے۔ امام حرم نے کہا کہ تعلیم وتربیت سب کی ذمہ داری ہے۔ معلمین اور معلمات اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عظیم رتبے والا معلم کوئی نہیں۔ اساتذہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل اپنائیں گے تو شاگردوں پر دور رس اثرات ڈالنے میں سرخرو ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ راہ خدا میں جہاد کے وقت کا معاملہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی انتقام نہیں لیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی کی سرزنش فرماتے تو براہ راست اس کا نام نہ لیتے بلکہ فرمایا کرتے “لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا اور ایسا کرتے ہیں” گفتگو کے اس انداز سے وہ انسان شرمندگی نہ محسوس کرتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود ہوتا تھا۔ امام حرم نے کہا کہ کامیاب مربی وہ ہے جو اپنی جملہ توانائیوں کو تربیت کیلئے بروئے کار لاتا ہے۔ بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت کرتے وقت انہیں فرض شناس بناتا ہے۔ انہیں ذمہ داری میں شریک اور آگے بڑھ کر خدمت انجام دینے کا عادی بناتا ہے۔ اسلام کی شناخت یہ ہے کہ وہ اپنے معاشرے کے کسی بھی طبقے کو لایعنی نہیں بناتا ، کمزوروں اور مسکینوں کو بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دے کر امت کا ناصر اور مددگار بناتا ہے۔ امام حرم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیوہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکھاتے ، سمجھاتے وقت نرمی سے پیش آتے، طلباءسے محبت کا اظہار کرتے ، رواداری کا مظاہرہ کرتے،مکالمہ کے ذریعے گتھیاں سلجھاتے، ہر شاگرد کے ساتھ اس کی ذہنی اور قلبی حالت کو مدنظر رکھ کر معاملہ فرماتے،ہر ایک کے ذہن اور فہم کے معیار کو سامنے رکھ کر پیش آتے۔ امام حرم نے کہا کہ اساتذہ ایک طرح سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہیں لہذا انہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ ہی تدریس اور تعلیم میں اپنانا ہو گا۔ امام حرم نے خطبہ جمعہ کے اختتام پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ خادم حرمین کو اپنی مرضی پر چلنے کی توفیق عطا کرے ۔ ولی عہد کو ملک و قوم کی صلاح و فلاح کے کام انجام دینے کی سعادت بخشے۔ تمام مسلم قائدین کو اپنے دین کی سربلندی کے لئے کام کرنے کی توفیق عطا کرے۔امام حرم نے سرحدوں کے محافظوں کی مدد تمام فرزندان وبنات اسلام کے گناہ معاف کرنے کی بھی دعائیں کیں۔ دوسری جانب مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ عبدالمحسن القاسم نے جمعہ کا خطبہ اسماءحسنی کے موضوع پر دیا۔ انہو ںنے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام السلام ہے۔ ا س کے معنی یہ ہےں کہ اللہ تعالیٰ ہر خامی اور ہر خرابی سے پاک و صاف ہے۔ یہ جامع نام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے معنی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تمام مخلوقات کیلئے اللہ تعالیٰ امن و سلامتی عطا کرنے والا ہے۔امام القاسم نے بتایا کہ بندگان خدا کو اسمائے حسنیٰ کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔

جواب چھوڑیں