نقلی بینک گیارنٹی کے ذریعہ 92 لاکھ روپے کا دھوکہ‘ اصل ملزم گرفتار

سی سی ایس پولیس نے ایک خانگی کپمنی کو کوئلہ کی معاملت کے لئے نقلی بینک گیارنٹی دینے والے ایک شخص دیپک قدسیہ متوطن گڑگاﺅں ہریانہ کو دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کر کے ہریانہ سے حیدرآباد منتقل کیا۔ ڈی ایس پی سی سی ایس اویناش موہنتی نے بتایا کہ سال 2012 میں سریناتھ ریڈی اسسٹنٹ جنرل منیجر مسرز کاہوری اورمین لمیٹیڈ واقع گرین لینڈ امیر پیٹ کی شکایت پر سی سی ایس پولیس نے سال 2012ءمیں ایک مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران سی سی ایس کی ٹیم نے اس کیس کے 2 ملزمین گووند یشونت سالونکر اور سمپت اگروال جو اس کمپنی کے پارٹنرس تھے کو گرفتار کرلیا تھا اور ملزمین نے تفتیش پر اس بات کا اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے اصل ملزم دیپک قدسیہ کے ساتھ مل کر مذکورہ کمپنی کو 6 کروڑ 66 لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کی نقلی بینک گیارنٹی دی تھی اور انہوں نے اس معاملت میں اپنا حصہ 92 لاکھ روپے حاصل کرلیا تھا لیکن وہ اس وقت فرار ہوگیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اصل ملزم دیپک قدسیہ خود کو الینزوری ان کار پورٹیڈ کمپنی گورے گاﺅں ہریانہ کا چیک ایگزیکٹیو آفیسر ظاہر کرتے ہوئے شکایت کنندہ شخص سریناتھ ریڈی سے رجوع ہوا تھا اور انہیں مختلف ممالک کی کمپنیوں سے اسٹیم کوئلہ اے پی جینکو کو سربراہ کرنے کے لئے 6,66,60,000 روپے کی بینک گیارنٹی دینے کا پیشکش کیا۔ اس معاملت کے عوض شکایت کنندہ شخص نے اصل ملزم کے پارٹنرس گووند اور سنجیو کوٹھاری کے اکاﺅنٹ میں 92 لاکھ روپے منتقل کئے تھے۔ جس کے بعد ملزمین انہیں مذکورہ رقم کی نقلی بینک گیارنٹی دے کر فرار ہوگئے تھے۔ سی سی ایس کی ٹیم نے اصل ملزم دیپک قدسیہ کو 10 اکتوبر کو ہریانہ سے گرفتار کر کے حیدرآباد منتقل کیا۔ انسپکٹر کے ایم کرن کمار کی نگرانی میں یہ کاروائی انجام دی گئی۔

جواب چھوڑیں