ٹرمپ کی ایران نیوکلیئر معاملت پر تنقید

صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی سخت گیر امریکی حکمت عملی کا ایک خاکہ تیار کریں گے تاکہ ایران کا مقابلہ کیا جاسکے جو اپنی طاقت کو مستحکم کرنا چاہتا ہے جس کےلئے وہ نیوکلیئر معاملت کے بارے میں شامل ہوا اور پھر اس نے ایران کے پاسدران انقلاب کو فنڈ دینے سے انکار کیا۔ اب ساری دنیا کےلئے وقت آگیا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اس مطالبہ میں شامل ہوجائیں کہ ایران کی حکومت اپنے خطرناک تباہی کے فیصلہ کو ختم کرے۔ ٹرمپ نے یہ بات وائٹ ہاﺅز میں جاری کردہ ایک بیان میں کہی جس کے ذریعہ اپنی حکمت عملی کے اہم عناصر کا تذکرہ کیا۔ ٹرمپ نے 12:45بجے شام اپنی تقریر کی جس کے ذریعہ انہوں نے ایران کے تئیں امریکی پالیسی کی نئی جارحانہ رسائی کا اعلان کیا۔ اس طرح ایک بڑی تبدیلی لاتے ہوئے انہوں نے یہ توقع ظاہر کی کہ وہ ایران کی 2015نیوکلیئر معاہدوں کو تسلیم نہیں کرتے جس کےلئے عالمی طاقتیں بشمول ٹرمپ کے پیشرو بارک اوباما نے بات چیت کی تھی۔ نئی حکمت عملی میں تین اہم مقاصد رکھے گئے ہیں۔ نیوکلیئر معاملت کو سخت کیا جائے تاکہ ایران اسلحہ تیار نہ کرسکے۔ اپنے بیالسٹک مزائل پروگرام کو ترک کردے اور ایرانی سرگرمیوں کا جواب دیا جائے جو واشنگٹن کے خلاف مصروف ہے اور مشرقی وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اس کی کوششوں کو ختم کیا جائے۔ ٹرمپ یقین کرتے ہیں جو نیوکلئیر معاملت اب تیار کی گئی ہے اس سے ایران کو ہتھیار تیار کرنے کی اجازت ہوگی اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکی پالیسی کو سخت کرتے ہوئے اس کو ایسے کام سے دور رکھا جائے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا نیوکلئیر پروگرام پُر امن مقاصد کےلئے ہے اور وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کو فروغ دینے سے انکار کرتا ہے جبکہ انتظامیہ نے ایران کےلئے اپنے منصوبہ کا اعلان کیا ہے۔ ریپبلیکن سنیٹرس باب کارکر اور ٹام کاٹن نے کہا کہ انہوں نے ایک قانون کو وضع کیا ہے جس کا مقصد ایران نیوکلیئر معاملت میں جو خامیاں پائی جاتی ہیں اس کا تدارک کیا جائے۔ مجوزہ قانون سازی کا فریم ورک جس میں انہوں نے ایک منصوبہ کا پیشکش کیا ہے جو خود بہ خود تحدیدات کا دوبارہ نفاذ ہوسکتا ہے اگر ایران کا نیوکلئیر پروگرام اس مقام تک پہنچے جہاں تہران ایک سال کے اندر نیوکلیئر ہتھیار کو فروغ دے جسے بریک آوٹ زمانہ کے طورپر قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات کانگریس کی جانب سے اگر منظور کئے جائیں اور جو ان دنوں عمل کےلئے پیش کئے گئے ہیں یقیناً سخت معائنہ کےلئے راہ ہموار ہوگی اور ایران کے ترقیاتی پروگرام کو محدود کیا جاسکتا ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ اقدامات کے کیا مواقع ہیں۔ توقع ہے کہ ترمیم میں کیا پیشکش کیا گیا ہے جو ایران کی موجودہ نیوکلیئر پالیسی کے قانون پر نظرثانی کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ دونوں ایوان نمائندگان اور سنیٹ سے اس کی تائید حاصل ہوگی۔ اقدامات کی تائید کرنے والوں نے کہا کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ ایسی شرائط رکھی جائیں جس سے ایران اپنے نیوکلئیر پروگرام کو روک دے اور وقت جمہوریت کےلئے مہیا کرے اور کام کا دباﺅ ڈالے۔ ٹرمپ کی یہ خواہش ہے کہ ان کی نئی حکمت عملی سے امریکی پالیسی میں نیوکلئیر معاہدہ سے ہٹ کر توسیع ہوگی اور ایرانی طرز عمل کو ختم کرنے کے اقدامات کئے جاسکیں گے۔ امریکہ کی نئی حکمت عملی جو ایران کے تعلق سے ہے اسے ایران کی حکومت کے عدم استحکام اثرات کو ختم کیا جائے اورجارحیت کا خاتمہ ہوسکے۔ بطور خاص وہ دہشت گردی اور عسکریت پسندوں کی تائید کرتا ہے۔ وائٹ ہاﺅز کی حقیقت پر مبنی رپورٹ میں یہ بات کہی گئی۔ وائٹ ہاﺅز کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ‘ ایرانی حکومت کو سرمایہ دینے سے انکار کےلئے کام کریں گے بطور خاص اس کے پاسدران انقلاب گروپ کو مدد نہیں دی جائے گی اور ہم حقیقتاً بین الاقوامی برادری ایران میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کریں گے جہاں امریکی شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ م ایرانی حکومت کے تمام راستوں کو مسترد کرتے ہیں جو نیوکلیئر ہتھیار بنانے پر گامزن ہے۔

 

جواب چھوڑیں