چدمبرم پر روی شنکر پرسادکی تنقید

 مرکزی وزیر قانون اور بی جے پی قائد روی شنکر پرساد نے جمعہ کو حیرت کا اظہار کیا کہ سینئر کانگریس قائد پی چدمبرم ‘ روہنگیا معاملہ میں قومی سلامتی کے تعلق سے ”لاعلم“ کیسے ہوسکتے ہیں۔ روی شنکر پرساد نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ چدمبرم ‘ ملک کے وزیر داخلہ رہے ہیں۔ وہ 26 نومبر 2008 کے حملہ کے بعد شیوراج پاٹل کے جانشین بنے تھے۔وہ قومی سلامتی امور سے پوری طرح لاعلم کیسے ہوسکتے ہیں‘ یہ سب سے بڑا سوال ہے؟ ۔ روی شنکر پرساد سے وزیراعظم نریندر مودی کے نام کئی ممتاز شخصیتوں بشمول چدمبرم اور ششی تھرور کے مکتوب کے بارے میں پوچھا گیا تھا جس میں وزیراعظم سے خواہش کی گئی کہ روہنگیا مسئلہ پر ہندوستان اپنے موقف پر نظرثانی کرے۔ مکتوب میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان 21 ویں صدی کا عالمی قائد بننے کا خواہاں ہے۔ ہندوستان اُس مسئلہ کے تعلق سے تنگ نظر نہیں ہوسکتا جو ہمالیائی بن چکا ہے ‘ عالمی بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مکتوب پر سابق معتمد داخلہ جی کے پلے ‘ وکیل پرشانت بھوشن‘ این سی پی قائد ڈی پی ترپاٹھی‘ وکیل کامنی جیسوال اور انسانی حقوق کارکن ہرش مندر نے دستخط کئے ہیں۔مکتوب پر ششی تھرور کی دستخط کے تعلق سے روی شنکر پرساد نے کہا کہ ششی تھرور تو زبان درازی کرتے ہی رہتے ہیں لیکن چدمبرم جیسے لوگوں نے کیوں اس پر دستخط کئے۔ مرکزی وزارت ِ داخلہ سپریم کورٹ سے کہہ چکی ہے کہ روہنگیا قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اور حکومت انہیں ہندوستان میں رہنے کی اجازت نہیں دے گی۔ مکتوب پر ممتاز شہریوں بشمول پی چدمبرم نے دستخط کئے۔ اس میں کہاگیا ہے کہ حکومت ہند‘ حکومت میانمار پر اپنا سفارتی اثرو رسوخ استعمال کرے اور ریاست رکھائن میں فوجی کارروائی ختم کروائے۔ میانمار میں قانون کا بول بالا ہو اور میانمار سے جان بچاکر بھاگنے والے روہنگیا¶ں کی بحفاظت و بلارکاوٹ ان کے اپنے وطن واپسی عمل میں آئے۔

جواب چھوڑیں