بینک فراڈ اور دہلی میں سیلنگ پر اپوزیشن کا احتجاج ۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی

اپوزیشن پارٹیوں کے علاوہ این ڈی اے کی حلیف تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے مختلف امور کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے احتجاج کرنے پر راجیہ سبھا کی کارروائی کو آج کے لیے ملتوی کردیا گیا ۔ اپوزیشن کے علاوہ تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے مختلف امور اور مطالبات کے لیے حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لیے آج بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔ تلگو دیشم پارٹی آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں احتجاج کررہی ہے۔ اس کے علاوہ دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کے تنازعہ اور بینک فراڈ پر اپوزیشن شدید احتجاج کررہی ہے۔ جیسے ہی آج دو بجے ایوانِ بالا کی کارروائی شروع ہوئی ،ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رک سکھیندر سیکھر رائے کھڑے ہوگئے اور حکومت سے مطالبات کی تکمیل کا مطالبہ کرنے لگے۔ انہوں نے کرسی صدارت سے اجازت طلب کی کہ وہ اس سلسلہ میں پیشرفت کریں ، تاہم نائب صدرنشین راجیہ سبھا پی جے کورین جو کہ کرسی صدارت پر تھے ، کہا کہ ایوان کی کارروائی مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہی چلائی جاتی ہے۔ تلگو دیشم پارٹی کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور آندھرا پردیش کو خصوصی موقف عطا کرنے کے مطالبہ کا اعادہ کیا ۔ ارکان کے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے ارکان نے کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کے قیام کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر عام آدمی پارٹی کے ارکان بھی نعرے لگاتے ہوئے سیلنگ مہم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ، جب کہ کانگریس اور ٹی ایم سی کے ارکان نے بینک فراڈ کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ حکومت مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ایوان میں احتجاج اور شور و غل کی وجہ سے مملکتی وزیر برائے پینے کے پانی ایس ایس اہلوالیہ نے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے تعلق سے بیان دیا اور کہا کہ حکومت مختلف امور کو روہ بہ عمل لانے کی خواہاں ہے۔ ان کے یہ کہنے کے باوجود ایوان میں احتجاج کا سلسلہ جاری تھا ، جس کی وجہ سے پی جے کورین کو ایوان کی کارروائی آج کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ صدرنشین راجیہ سبھا وینکیا نائیڈو نے احتجاجی ارکان کو خاموش رہنے اور اپنی نشستوں پر بیٹھ جانے کی ترغیب دی ۔ اس کے باوجود ارکان مسلسل احتجاج کرتے رہے۔ ، جس کی وجہ سے صدرنشین ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کرنے کے لیے مجبور ہوگئے۔ اسی دوران بتایا گیا ہے کہ لوک سبھا کی کارروائی کو آج کے لیے ملتوی کرنا پڑا ، کیوںکہ علاقائی پارٹیوں کی جانب سے مختلف امور پر توجہ مبذول کرواتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ برقرار رہا ۔ ایوانِ زیریں میں آج چھٹویں دن بھی مختلف پارٹیوں کی جانب سے احتجاج کرتے ہوئے توجہ مبذول کروائی جاتی رہی۔ 5 مارچ کو جب کہ بجٹ سیشن کا آغاز ہوا ، اس کے بعد سے علاقائی پارٹیوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے وقفۂ سوالات کے فوری بعد احتجاج کی وجہ سے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا ، کیوںکہ ٹی آر ایس ، ٹی ڈی پی ، اے آئی اے ڈی ایم کے اور وائی ایس آر کانگریس کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ ارکان جن کے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے اور وہ اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے نعرے بلند کرتے رہے تھے۔ دوپہر میں جب کہ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی اس وقت بھی احتجاج کا سلسلہ جاری تھی۔ مملکتی وزیر فینانس شیو پرتاپ شکلا نے ایوان میں دو بلس پیش کیے۔ بی جے ڈی کے رکن بی مہتاب نے معاشی جرائم سے متعلق بل کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور بے گناہ افراد بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔ لوک سبھا میں 5 مارچ کے بعد سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور شور و غل کے مناظر دیکھے جارہے ہیں ۔ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف عطا کرنے ، تلنگانہ میں تحفظات میں اضافہ ، دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کا تنازعہ اور اس کے لیے بورڈ کی تشکیل جیسے مطالبات اور مسائل کی یکسوئی کے لیے اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

جواب چھوڑیں