تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کا ہنگامہ خیز آغاز

تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کا ہنگامہ آرائی اور طوفان بدتمیزی کے ساتھ آغاز ہوا۔ سیشن کے پہلے دن پیر کو ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن‘ اسمبلی اور کونسل کے ارکان سے مشترکہ خطاب کر رہے تھے کہ اہم اپوزیشن کانگریس ارکان‘ ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے پوڈیم کی جانب بڑھے اور گورنر نرسمہن کے خلاف نعرے لگائے۔ کانگریس کے ارکان گورنر کے خطبہ کی کاپیوں کو پھاڑ دیا اور ان تکڑوں کو ایوان میں پھینک دیا لیکن وہ کیا کہہ رہے تھے کسی کو بھی سنائی نہیں دیا۔ احتجاجی ارکان نے کاعذ کے گولے بنائے اور ان گولوں کو گورنر کی طرف پھینکا۔ مارشلس‘ پوڈیم کے قریب کانگریس ارکان کو احتجاج سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کانگریس ارکان کے احتجاج کے دوران گورنر نے اپنی تقریر کو جاری رکھا۔ اپنے خطاب کے دوران گورنر نے ریاستی حکومت کے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات کو اجاگر کیا۔ گورنر نرسمہن نے کہا کہ میری حکومت نے ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دیا ہے اور طلبہ اگر چاہیں تو پہلی زبان (فرسٹ لینگویج) کے طورپر اردو کو اختیار کرسکتے ہیں۔ اسپیکر مدھوسدھن چاری اور صدرنشین قانون ساز کونسل سوامی گوڑ کے درمیان میں گورنر نے کہا کہ حکومت‘ تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت دے رہی ہے اور تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے کیلئے خصوصی مساعی انجام دے رہی ہے۔ میری حکومت نے اقلیتوں‘ ایس سی‘ ایس ٹی اور بی سی طلبہ کیلئے 517نئے اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں جس کا مقصد ڈراپ آوٹ کو ختم کرنا اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ حکومت نے اقلیتوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ ان اقدامات میں اقلیتی طلبہ کیلئے اقامتی اسکولس کا قیام‘ پری اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپس فیس ری ایمبرسمنٹ‘ اوورسیز اسکالرشپس کی فراہمی کے علاوہ غریب لڑکیوں کی شادیوں کے وقت شادی مبارک اسکیم کے تحت ہر لڑکی کو مالی امداد‘ ائمہ مساجد اور موذنین کو اعزازیہ کی فراہمی‘ اسٹیڈی سرکلس کا قیام‘ تلنگانہ اسلامک کلچر کنونشن سنٹر کی منظوری‘ کرسچن اور سکھ بھونوں کی تعمیری منظوریاں شامل ہیں۔ حکومت نے سوشیل ویلفیر اور اقامتی اسکولوں میں زیر تعلیم تمام طلبہ کے غذائی اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ گورنر نے اپنے خطبہ میں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے کہا کہ میری حکومت تمام غریبوں کو وقار کے ساتھ زندگی گذارنے کیلئے ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 41.78لاکھ مستحق افراد کو آسرا وظائف مل رہے ہیں۔ گورنر نے مزید کہا کہ حکومت نے صحت عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے تیز رفتار اقدامات کئے ہیں جس کے سبب شیر خوار اور دوران زچگی نومولود کی اموات کی شرح میں کمی آئی ہے۔ حاملہ خواتین کو کے سی آر کٹس دی جارہی ہے جس کے تحت لڑکے اور لڑکی کی پیدائش پر بالترتیب 12ہزار اور 13ہزار روپئے کی امداد دی جارہی ہے اور سرکاری دواخانوں میں زچگی کرانے پر مزید 2ہزار روپئے دئیے جارہے ہیں۔ حکومت کے اقدامات سے سرکاری دواخانوں میں زچگیوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ حاملہ خواتین کی چک اپ‘ زچگی کیلئے انہیںہاسپٹل لانے اور انہیں گھر پہنچانے کیلئے 250خصوصی گاڑیوں کو متعارف کرایا گیا ہے۔ سرکاری دواخانوں کے زچہ وارڈ میں تمام تر طبی سہولتیں اور آلات فراہم کئے گئے ہیں۔ ای ایس ایل نرسمہن نے اپنی تقریر میں کہا کہ میری حکومت‘ عوام کی سلامتی اور تحفظ کو ترجیح دیتی ہے اس حصہ کے طورپر پولیس کو عصری سہولتوں اور ہتھیاروں سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں نئے اضلاع قائم کئے گئے ہیں۔ محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر تقررات کئے گئے۔ عوام کی سلامتی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مقصد کے تحت کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرس کے قیام کا عمل جاری ہے۔ شہر کے مختلف اہم مقامات پر تقریباً 2لاکھ سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں کو ہراسانی سے بچانے اور ان پر ہونے والے مظالم کے تدارک کیلئے شی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جس کے مثبت اور حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں۔ عوام کی فلاح وبہبود کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے کہا کہ میری حکومت‘ ایس سی‘ ایس ٹی اسپیشل ڈیولپمنٹ فنڈ ایکٹ 2017کے نفاذ کیلئے اپنے عہد پر قائم ہے۔ حکومت‘ سماج کے انتہائی پسماندہ اور کمزور طبقات کی ترقی کیلئے کام کر رہی ہے۔ مووسٹ بیاک ورڈ کلاسس کارپوریشن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے انتہائی پسماندہ طبقات کے افراد کی ترقی اور ان کی بہبود کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ گورنر نرسمہن نے مزید کہا کہ گذشتہ 3برسوں سے ریاست تلنگانہ کی گھریلو پیداوار کی مجموعی شرح نمو 8.6فیصدد رج کی گئی ہے جو قومی شرح ترقی 7.5فیصد سے زائد ہے۔ سال 2016-17میں ریاست کے ہر شہری کی آمدنی سالانہ 1.54لاکھ روپئے تھی جو قومی سطح پر فی کس آمدنی کی شرح 1.03لاکھ روپئے سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ریاست میں بھاری اور متوسط آبپاشی پراجکٹوں کی تعمیر‘ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کو اولین ترجیحات میں شامل رکھتے ہوئے کاموں کو سرعت کے ساتھ انجام دینے‘ مشن کاکتیہ کے تحت ذخائر آب کی مرمت‘ مشن بھگیرتا کے تحت پائپ لائنوں کے ذریعہ گھروں کو صاف پینے کے پانی کی سربراہی‘ برقی سربراہی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے نتیجہ میں ریاست کی معاشی ترقی ممکن ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ زراعت‘ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تشکیل تلنگانہ سے قبل اس شعبہ کی حالت انتہائی خراب تھی۔ آبپاشی کی سہولتیں ناکافی تھیں۔ زراعت کا دارومدار بارش پر منحصر تھا جس کے نتیجہ میں زرعی پیداوار میں کمی آئی گئی۔ میری حکومت نے ایک لاکھ روپئے تک کسانوں کا قرض معاف کردیا ہے۔ زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے حکومت‘ کسانوں کو امداد فراہم کر رہی ہے۔ معیاری تخم‘ کھاد کی سربراہی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ حکومت کے موافق کسان اور زراعت اقدامات کے سبب سال 2016-17میں غذائی اجناس کی 101.29لاکھ ٹن ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت نے لینڈ ریکارڈز کو درست کرنے کا انقلابی اقدام اٹھایا ہے۔ مقررہ ایک سو دنوں کے اندر 96فیصد سے زائد لینڈ ریکارڈز کو درست کیا گیا ہے اور ان ریکارڈز کو تنازعات سے پاک قرار دے دیا گیا ہے۔مالکان میں بہت جلد نئے پٹہ پاس بک تقسیم کئے جائیں گے۔ حکومت نے برقی شعبہ میں بھی شاندار پیشرفت کی ہے اور برقی کی ترسیل کی صورتحال کو کافی حد تک بہتر بنایا گیا ہے۔ برقی پیداوار کی صلاحیت میں 7,778میگاواٹ سے 15,344‘ میگاواٹ تک اضافہ کیا گیا ہے۔ مستقبل قریب میںتلنگانہ‘ فاضل برقی والی ریاست بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تلنگانہ‘ انڈسٹریل انوسٹمنٹ کے مقام کی حیثیت سے ابھرا ہے۔ ٹی ایس آئی پاس پر کامیابی کے ساتھ عمل آوری کے نتیجہ میں ملک بھر میں تلنگانہ کو ایز ڈوئنگ بزنس میں سرفہرست مقام حاصل ہوا ہے۔ ریاست میں 6,208صنعتی یونٹوں کی توثیق کی جاچکی ہے جس میں 1.18لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جس کے سبب 4.47لاکھ افراد کو راست طورپر روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ پہلے ہی 3,703صنعتی یونٹس کام کرنا شروع کردئیے ہیں۔ حکومت نے پاور لومس کے بافندوں کے قرض کو معاف کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر حیدرآباد میں 1500‘ آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس کمپنیاں واقع ہیں‘ ان کمپنیوں سے راست طورپر 4.3لاکھ پیشہ وارانہ افراد کو روزگار حاصل ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ بالراست طورپر 7لاکھ افراد روزگار سے مربوط ہیں۔ سال 2016-17میں 85,470کروڑ مالیاتی سافٹ ویر اور آئی ٹی مصنوعات کا اکسپورٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد نے عالمی سطح پر بیسٹ اسٹارٹ اپ کے مقام کے طورپر اپنی شناخت بنالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے میاں پور تا امیر پیٹ اور امیرپیٹ تا ناگول میٹرو ریل راہداری کے پہلے پراجکٹ کو کامیابی کے ساتھ پورا کیا ہے۔ میری حکومت نے ریاست میں 33فیصد جنگلاتی رقبہ برقرار رکھنے کیلئے ہریتا ہارم پروگرام شروع کیا ہے۔ سال 2017-18کے دوران 34کروڑ پودے لگائے گئے۔ ان میں 30کروڑ پودوں کو جیوٹاگ کیا گیا ہے۔ ریاست میں سیاحوں کی آمد میں جہاں اضافہ ہوا ہے وہیں شہر حیدرآباد‘ قومی اور بین الاقوامی پروگراموں کے مرکز میں تبدیل ہوا ہے۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے اپنی تقریر ختم کرتے ہوئے کہا کہ تلگوزبان وادب کی ترقی وترویج کیلئے میری حکومت نے تلگو عالمی مہا سبھا کا انعقاد عمل میں لایا ہے۔ حکومت‘ ریاست کے عوام کے توقعات پر پورا اترتے ہوئے بنگارو تلنگانہ کے مقصد کے حصول کی جانب تیزی کے ساتھ پیشرفت کر رہی ہے۔ گورنر نے اپنی تقریر کا آغاز اور اختتام تلگو سے کیا۔

جواب چھوڑیں