سری لنکا میں جھڑپوں کے سلسلہ میں 230 افراد گرفتار

سری لنکا کے ضلع کینڈی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے لئے 230 سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر نفرت انگیز تقریر کو پھیلارہے تھے۔ پولیس نے پیر کے دن یہ بات بتائی۔ ضلع کینڈی میں صورتحال معمول پر آچکی ہے لیکن سخت سیکوریٹی مزید چند دن برقرار رہے گی۔ پولیس نے بتایا کہ آئندہ چند دن میں مزید گرفتاریوں کی توقع ہے۔ پولیس ہیڈکوارٹرس میں ایک اسپیشل ڈیسک قائم کی گئی ہے تاکہ لوگ تشدد کے واقعات کے تعلق سے شکایتیں درج کراسکیں۔ وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے نے ویک اینڈ پر متاثرین ِ تشدد سے ملاقات کی تھی اور نقصان کا اندازہ لگایا تھا ۔انہوں نے وعدہ کیا کہ حکومت دکانوں‘ مکانوں‘ مسجدوں اور مندروں کو جو نقصان پہنچا اس کا بھرپور معاوضہ ادا کرے گی۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ جھڑپوں نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر حکومت کے لئے نیا چیلنج پیدا کیا ہے۔ یہ جھڑپیں ملک کی سیاحت اور معیشت کے لئے دھکا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم شعبہ سیاحت میں اچھال کی توقع کررہے تھے لیکن کینڈی میں گڑبڑ کے بعد اب ہمیں پتہ نہیں کیا ہوگا۔ وکرم سنگھے کو بتایا گیا کہ 465 مکانوں‘ دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ کئی مسجدیں اور مندر بھی تباہ ہوئے۔ وکرم سنگھے نے کہا کہ کینڈی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ایک منظم گروپ کا ہاتھ ہے۔ پولیس کو اس تعلق سے ٹھوس جانکاری پہلے ہی مل چکی ہے۔ اسی دوران ضلع کینڈی میں 4 مارچ سے بند تمام سرکاری اسکول آج کھول دیئے گئے۔ فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 3 افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوئے تھے۔

جواب چھوڑیں