شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات ‘امریکہ مزید شرائط عائد نہیں کرے گا : سی آئی اے سربراہ

ٹرمپ انتظامیہ عہدیداروں نے بتایا کہ شمالی کوریا کی جانب سے نیوکلیر تجربات اور میزائیل پروازوں کا احیاء نہ کرنے یا برسر عام امریکی‘ جنوبی کوریائی فوجی مشقوں پر تنقید کے وعدہ کے علاوہ شمالی کوریا کے ساتھ دونوں ممالک کے قائدین کی پہلی میٹنگ کے موقع پر مزید شرائط عائد نہیں کئے جائیں گے ۔ گذشتہ ہفتہ اس بات کا حیرت انگیز اعلان کیاگیاتھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا قائد کم جانگ ان سے ماہ مئی تک ملاقات کرنے سے اتفاق کرلیا ہے جس کے بعد سرکاری عہدیداروں کا یہ بیان سامنے آیا ہے ۔ شمالی کے ساتھ مذاکرات کیلئے امریکہ کی جانب سے نئی شرائط عائد نہیں ہوں گی۔ امکانی ملاقات سے اتفاق کرلیاگیاہے جبکہ مزید اضافی شرائط کی کوئی صراحت نہیں کی گئی ہے تاہم پھر ایک مرتبہ یہ کہاجاسکتاہے کہ وہ میزائیل تجربات نہیں کریں گے اور نیوکلیر تجربات نہیں کریں گے اور امریکہ و جنوبی کوریا کی مشترکہ منصوبہ بند فوجی مشقوں پر برسر عام کوئی اعتراض نہیں کریں گے ۔ وائٹ ہاوز کے ترجمان راج شاہ نے یہ بات بتائی۔ امریکی وزیر نے اسٹیون نے بتایا کہ چوٹی کانفرنس سے ٹرمپ کو اس بات کاموقع ملے گا کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ اس کے نیوکلیر پروگرام پر سمجھوتہ کریں ۔ صدر اس مرحلہ پر اپنے مقصد کے بارے میں بہت واضح موقف رکھتے ہیں یعنی اس کامطلب یہ ہے کہ جزیرہ نما کوریا سے نیوکلیراسلحہ سے چھٹکارہ دلایاجاسکے ۔انتظامیہ عہدیداروں نے اس کاسبب اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ سخت گیر معاشی تحدیدات ہیںجبکہ امریکہ نے کم جانگ ان کو مذاکرات کی دہلیز تک پہنچنانے میں معاونت کے ساتھ اس بات پر زور بھی دیا ہے ۔راج شاہ نے بتایاکہ ہماری پالیسی ساری دنیامیں اپنے شراکت داروں اور حریفوں سے دباؤ پر مبنی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اقوام متحدہ پر بھی دباؤ ڈالناہے جو چین کے ذریعہ کیاجاتاہے ۔ اس کے اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ رائٹر کی اطلاع کے مطابق امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مائک پومپیو نے صدر ٹرمپ کے شمالی کوریا کے قائدکم جونگ ان سے ملاقات کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر خطرات کو سمجھتے ہیں۔کل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے مائک پومپیو نے کہا کہ ’ ٹرمپ یہ تماشہ کے لیے نہیں کر رہے، وہ وہاں مسئلہ کو حل کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔‘امریکی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ‘شمالی کوریا کے ساتھ معاہدے پر کام جاری ہے، اور یہ مکمل ہو گیا تو دنیا کے لیے بہت اچھا ہو گا۔ وقت اور جگہ کا انتخاب بعد میں ہو گا۔ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات اچھے نہ رہے تو یہ دونوں ممالک اس سے کہیں زیادہ خراب صورتحال میں ہوں گے جس میں ابھی ہیں۔ اعلیٰ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات سے قبل پیانگ یانگ کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور اس پر دباوؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔امریکہ کی خفیہ ایجنسی ‘سی آئی اے’ کے سربراہ مائیک پومپیو نے نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کے ساتھ گفتگو میں واضح کیا ہے کہ اس بارے میں کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ بات چیت سے قبل یا دوران شمالی کوریا کے بارے میں امریکی موقف میں نرمی آئے گی۔کل فوکس نیوز سنڈے’ میں گفتگو کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کی ان کے بقول ’’انتہائی ضروری‘‘ مشترکہ فوجی مشقوں پر شمالی کوریا کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کم جونگ ان کو یہ بات بھی یقینی بنانی ہوگی کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا معاملہ بھی شامل ہو۔وائٹ ہاوس کے ایک ترجمان راج شاہ نے امریکی ٹی وی ’اے بی سی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ماضی کے امریکی صدور کی جانب سے سے اختیار کردہ اس ناکام پالیسی کے برعکس حکمتِ عملی اختیار کی جس کے تحت ان کے بقول مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی رعایتیں بانٹنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسی ہے کہ شمالی کوریا پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے نہ صرف دنیا بھر میں امریکہ کے اتحادی ملکوں اور حکومتوں بلکہ اقوامِ متحدہ اور چین کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی پالیسی کے نتیجے میں کم جونگ ان کا رویہ تبدیل ہوا ہے اور دباؤ ڈالنے اور بڑھانے کی یہ پالیسی آئندہ بھی جاری رہے گی۔
راج شاہ نے دعویٰ کیا کہ کم جونگ ان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات سے قبل شمالی کوریا نے میزائل اور جوہری تجربات روکنے اور امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان طے شدہ فوجی مشقوں پر کوئی اعتراض نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسٹیون منیوچِن نے بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا پر اقتصادی پابندیاں سخت کرنے کی صدر ٹرمپ کی پالیسی نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے اور اسی کے نتیجے میں ہی شمالی کوریا مذاکرات پر آمادہ ہوا ہے۔گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے واشنگٹن ڈی سی کا دورہ کیا تھا جس کے دوران وفد کے ارکان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات پر آمادگی کا پیغام لائے ہیں جسے امریکی حکومت نے قبول کرلیا ہے۔

جواب چھوڑیں