مشرقی غوطہ میںشامی فوج کے حملے جاری ‘42ہلاک

ملک شام کے مشرقی غوطہ علاقہ میں فوج کے جاری فضائی حملے میں کم از کم 42افراد کی موت ہوگئی۔خبررساں ایجنسی الجزیرہ نے ڈوما میں موجود کارکن کے حوالہ سے بتایا کہ شامی طیارے پورے غوطہ شہر میں مسلسل بم برسا رہے ہیں۔ شامی ٹیلی ویزن نے خبر دی ہے کہ فوج نے اتوار کو موڈیرا شہر کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔کارکن ایڈم نور نے کہاکہ فوج کے حملوں میں جوبار میں آٹھ لوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ دوما میں ایک ہی کنبہ کے 16لوگ مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہرستہ ، جملکا، اربن اور ایڈم شہر میں لوگ مارے گئے ہیں۔فوج کی مہم کافی جارحانہ ہورہی ہے اور میسر با شہر پر قبضہ کرنے کے بعد اب وہ آس پاس کے علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دمشق کے نزدیک باغیوں کے قبضہ والے گڑھ میں فوج کی جارحانہ کارروائی جاری ہے اور اس نے نصف سے زائد علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے۔اس درمیان اقوام متحدہ نے کہاکہ مشرقی غوطہ شہر میں تقریباََ چار لاکھ شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ مشرقی غوطہ تین حصوں میں تقسیم ہے۔ سیرین آبزرویٹری کے مطابق فوج نے مشرقی غوطہ میں 18فروری کو ہی کارروائی شروع کی تھی اور گزشتہ 21دنوں سے اب تک یہاں 1099لوگ مارے جاچکے ہیں۔شامی خانہ جنگی پر نظر رکھنے والی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شامی جنگ میں اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد افرا د ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں قائم اس تنظیم کی معلومات کا دارومدار شام بھر میں موجود انسانی حقوق کے کارکن اور دیگر ذرائع پر ہے۔ سیرین آبزرویٹری کے مطابق 15 مارچ 2011 سے شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی میں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی حتمی تعداد 353,395 ہے۔روسی فوج نے کہا ہے کہ اس نے باغیوں کے قبضے میں موجود مشرقی غوطہ میں محصور عام شہریوں میں سے 52 کو نکال کر محفوظ علاقے میں منتقل کر دیا ہے۔ روسی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مقامی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد جن شہریوں کو وہاں سے نکالا گیا ہے ان میں 26 بچے بھی شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مصرابہ کے علاقے سے نکالے گئے ان عام شہریوں کو فی الحال ایک عارضی مہاجر کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں