پاکستان کی پہلی ہندو دلت سینیٹر کرشنا کماری کوہلی کی حلف برداری

 پاکستان کی پہلی ہندو دلت خاتون کرشنا کماری کوہلی اُن 51 سینیٹرس میں شامل ہیں جنہوں نے آج ایوان ِ بالا کے ارکان کی حیثیت سے حلف لیا۔ 39 سالہ کوہلی‘ صوبہ سندھ کے ضلع تھر کے ایک دوردراز موضع نگر پارکر کی رہنے والی ہیں۔ وہ بلاول بھٹو زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن ہیں۔ پریسائیڈنگ عہدیدار سردار یعقوب خان ناصر نے ووفاقی و صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے 3 مارچ کو منتخبہ سینیٹرس کو حلف دلایا۔ سابق وزیر فینانس اسحق ڈار نے جو پنامہ پیپرس اسکینڈل میں ملزم ہیں‘ حلف لینے موجود نہیں تھے کیونکہ وہ خرابی صحب کے باعث لندن میں ہیں۔ کوہلی‘ سندھ سے اقلیتی نشست سے منتخب ہوئیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ تھر کے روایتی لباس میں پارلیمنٹ ہاؤز پہنچیں۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ نگر پارکر میں خواتین کو درپیش مسائل حل کرنے کے علاوہ علاج معالجہ کو بہتر بنانے اور پانی کی قلت دور کرنے کے لئے کام کریں گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق میں رتنا بھگوان داس چاولہ نامی خاتون کو پہلی ہندو سینیٹر منتخب کیا تھا۔ غریب کسان جگنو کوہلی کے گھر فروری 1979میں پیدا ہونے والی کرشنا کماری کوہلی اور ان کے ارکان خاندان نے ضلع عمر کوٹ میں ایک وڈیرے(زمیندار) کی خانگی جیل میں لگ بھگ 3 سال گذارے تھے۔ وہ اس وقت تیسری جماعت میں پڑھ رہی تھیں۔ 16 برس کی عمر میں ان کی شادی لال چند سے ہوئی تھی۔ وہ اس وقت 9 ویں جماعت میں پڑھ رہی ہیں تاہم انہوں نے تعلیم جاری رکھی اور 2013 میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرس کیا۔

جواب چھوڑیں