کارتی چدمبرم 24 مارچ تک عدالتی تحویل میں

مقامی عدالت نے پیر کے دن سینئر کانگریس قائد پی چدمبرم کے لڑکے کارتی چدمبرم کو آئی این ایکس میڈیا کرپشن کیس میں 24 مارچ تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ عدالت نے کارتی چدمبرم کی یہ درخواست بھی خارج کردی کہ انہیں تہاڑ جیل میں علیحدہ جیل یا کوٹھری الاٹ کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ملزم اور ملزم کے باپ کے سماجی رتبہ کے مدنظر ان کے ساتھ دیگر ملزمین سے مختلف سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ سی بی آئی نے خصوصی جج سنیل رانا کو بتایا کہ اب اسے کارتی چدمبرم کی تحویل کی ضروت نہیں ہے۔ عدالت نے اس پر کارتی کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ وکلائے صفائی ڈی کرشنن اور موہت ماتھر نے عدالت کو بتایا کہ کارتی چدمبرم کے والد نے ٹاڈا ‘ مکوکا ‘ انسداد غیرقانونی سرگرمیاں قانون اور این ڈی پی ایس ایکٹ جیسے مختلف سخت قوانین سے نمٹا ہے۔ ان قوانین کے تحت کارروائی کا سامنا کرنے والے مختلف زیرسماعت قیدی تہاڑ جیل میں بند ہیں جہاں کارتی کو اب رکھا جائے گا۔ عدالتی تحویل کے دوران ان کی سلامتی خطرہ میں پڑسکتی ہے۔ وکلائے صفائی نے عدالت سے درخواست کی کہ کارتی کو علیحدہ جیل الاٹ کرنے کی ہدایت دی جائے۔ سی بی آئی کے وکیل وی کے شرما نے کہا کہ ملزم کے تعلق سے اندیشہ بے بنیاد ہے کیونکہ وہ اکثر بیرونی ممالک کے دورے کرتا رہا ہے۔ اُس وقت کارتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا تو اب جیل میں کیسے ہوسکتا ہے جہاں سیکوریٹی ملازمین کی بھاری تعداد تعینات ہوتی ہے۔ بسکٹ کے بہت بڑے تاجر راجن پلے کی تہاڑ جیل میں موت کا حوالہ دیتے ہوئے کارتی چدمبرم کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو جیل میں نقصان پہنچانے کی منصوبہ بند سازش ہورہی ہے۔

جواب چھوڑیں