گورنر کی تقریر کے دوران سوامی گوڑ کی آنکھ زخمی

تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے آغاز کے پہلے دن جب ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن دونوں ایوانوں کے ارکان سے مشترکہ خطاب کر رہے تھے تب اپوزیشن کانگریس ارکان کے احتجاج کے دوران صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل سوامی گوڑ کی ایک آنکھ زخمی ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس رکن کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ہیڈ فون کو پوڈیم کی طرف پھینکا جو اچھل کر سوامی گوڑ کی کو جا لگا جس کے نتیجہ میں ان کی (گوڑ) کی ایک آنکھ زخمی ہوگئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جبکہ گورنر نرسمہن اپنی طبع شدہ تقریر پڑھ چکے تھے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی ہدایت پر سوامی گوڑ کو سروجنی آئی ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں ان کا علاج کیا گیا۔ حکمراں جماعت کے کئی ارکان بشمول وزیر افزائش مویشیان ٹی سرینواس یادو نے ایوان میں کانگریس ارکان کے احتجاج کو غنڈہ گردی سے تعبیر کیا اور اس بدبختانہ واقعہ کی مذمت کی۔ انہوں نے قانون کے مطابق وینکٹ ریڈی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس ارکان نے ٹی آر ایس کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ دانستہ طورپر سوامی گوڑ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کانگریس ارکان کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ حادثاتی اور غیر دانستہ ہے۔ انہوں نے منصوبہ بند حملہ کے الزام کو خارج کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس ارکا ن نے گورنر کے خطبہ کی کاپیوں کو پھاڑ کر اس کے گولے بنائے اور ان گولوں کو گورنر کی جانب پھینکا ان میں سے کاغذ کا ایک گولہ سوامی گوڑ کو لگا ہے۔ کانگریس ارکان کے ایوان میں داخل ہونے سے قبل حکومت نے زائد مارشلوں کو تعینات کیا تھا جس کا مقصد پوڈیم کی جانب پھینکی جانے والی اشیاء کو روکنا تھا۔ اس کے بعد کاغذ کے گولے پوڈیم کی جانب پھینکے گئے۔ کانگریس کے ارکان مسلسل نعرے لگارہے تھے ان ارکان کے شور وغل کے دوران کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ گورنر کی تقریر کے درمیان میں فلور لیڈر جی کشن ریڈی کی قیادت میں بی جے پی ارکان‘ ایوان سے باہر چلے گئے۔ بی جے پی کے ارکان نے یہ کہتے ہوئے بائیکاٹ کیا کہ گورنر کی تقریر میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد ٹی آر ایس حکومت جو کہتی آرہی ہے وہی گورنر کی تقریر میں ہے۔

جواب چھوڑیں