انجیلا مرکل چوتھی مرتبہ جرمن چانسلر منتخب

جرمن پارلیمان نے انجیلا مرکل کو چوتھی مرتبہ چانسلر کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ ایوان زیریں میں آج ہوئی ووٹنگ میں میرکل کے حق میں 364 ووٹ پڑے جبکہ 315 ممبران نے ان کی مخالفت کی۔ بتایا گیا ہے کہ میرکل اور ان کی کابینہ آج مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بچے حلف اٹھائیں گی۔ گزشتہ برس ستمبر میں انتخابات کے تقریباً چھ ماہ بعد جرمنی میں حکومت کا قیام ممکن ہو سکا ہے۔ جرمنی کی مخلوط حکومت چانسلر میرکل کی سی ڈی یو، ان کی ہم خیال جماعت سی ایس یو اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل ہے۔ میرکل جرمن تاریخ میں چار مرتبہ چانسلر بننے والی پہلی سیاستدان بن گئی ہیں۔انجیلا مرکل جرمن تاریخ میں چار مرتبہ چانسلر بننے والی پہلی قائدبن گئی ہیں۔ نئی جرمن حکومت کا قیام گزشتہ برس ستمبر میں انتخابات کے تقریباً 6 ماہ بعد طویل تگ و دو اور مذاکرات کے بعد ممکن ہو سکا ہے۔آج جرمن پارلیمان کے 364 ارکان نے انجیلا مرکل کے حق میں ووٹ ڈالا ہے جب کہ 315 ارکانِ پارلیمان نے میرکل مخالفت کی۔ اس طرح انجیلا مرکل چوتھی مرتبہ ملک کی چانسلر منتخب ہوگئی ہیں۔ چانسلر کے عہدے پر فائز انجیلا مرکل کو مشرقی جرمنی سے تعلق رکھنے والی پہلی سیاستدان کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سابق جرمن چانسلر ہیلموٹ کوہل نے انہیں 1991ء میں اپنی کابینہ میں خواتین اور نوجوانوں کا امور کا وزیر مقرر کیا تھا۔ انجیلا مرکل کو ’کوہلز میڈشن‘ یعنی ہلموٹ کوہل کی لڑکی کہا جاتا تھا۔جرمنی کی مخلوط حکومت چانسلر میرکل کی سی ڈی یو، ان کی ہم خیال جماعت سی ایس یو اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل ہے۔ 709 نشستوں پر مشتمل وفاقی پارلیمان میں سی ڈی یو، سی ایس یو اور ایس پی ڈی کو 399 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے۔ جب کہ میرکل کو چوتھی مرتبہ چانسلر منتخب ہونے کے لیے 355 ارکان کی حمایت درکار تھی۔بعد ازاں جرمن صدرکی سرکاری رہائش گاہ ’’ بَیلے وْو پیلس‘ میں چانسلر میرکل اور ان کی نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی۔ چانسلر میرکل کی نئی کابینہ میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ’ایس پی ڈی‘ کے چھ وزراء ، کرسچن ڈیموکریٹک یونین ‘سی ڈی یو’ کے پانچ اور جرمن صوبے باویریا کی کرسچن سوشلسٹ یونین ‘سی ایس یو’ کے تین وزراء شامل ہیں۔واضح رہے جرمنی میں گزشتہ 4 سال کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور سوشلسٹ جماعت کی مخلوط حکومت تھی۔ تاہم سوشل ڈیموکریٹس نے ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں اپنی تاریخ کے بد ترین نتائج کے بعد اپوزیشن میں جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

جواب چھوڑیں