بابری مسجد کیس میں اب کسی اور کی مداخلت نہیں۔ سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ کی رولنگ

سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن 32 ممتاز شخصیتوں بشمول شیام بنیگل ‘ اپرنا سین‘ انیل دھرکر اور تیستا سیتلواد کی درخواستیں مسترد کردیں جو رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد تنازعہ کیس میں بحث کرنا چاہتی تھیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا‘ جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنذیر پر مشتمل بنچ نے تمام انٹرلوکوٹری درخواستیں (آئی ایز) خارج کردیں۔ سپریم کورٹ اب صرف ان کی بحث کی سماعت کرے گی جو اس کیس میں الٰہ آباد ہائی کورٹ میں فریق رہے ہیں۔ 2010 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 2.77 ایکڑ کی متنازعہ اراضی 3 فریقوں بھگوان رام کی مورتی‘ سنی وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑہ کے درمیان مساوی بانٹ دی تھی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اپیلیں گذشتہ 8 برس سے زیرالتوا رہی ہیں۔ بی جے پی قائد سبرامنیم سوامی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں ازخود مداخلت نہیں کی بلکہ جب انہوں نے ایودھیا میں بھگوان رام کے مقام پیدائش پر پوجا کے اپنے بنیادی حق کا حوالہ دیا تھا تو سپریم کورٹ نے انہیں مداخلت کی اجازت دی تھی۔ پی ٹی آئی کے بموجب سپریم کورٹ نے آج تمام عبوری درخواستیں خارج کردیں اور کہا کہ حساس بابری مسجد۔ رام جنم بھومی اراضی تنازعہ کیس میں اب کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا‘ جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر پر مشتمل بنچ نے یہ دلیل مان لی کہ تنازعہ کے اصل فریقین کو ہی بحث کرنے دیا جائے۔ جو لوگ درمیان میں مداخلت کے لئے آئے ہیں ان سب کی درخواستیں مسترد کردی جائیں۔ سپریم کورٹ نے بی جے پی قائد سبرامنیم سوامی کی درخواست بھی مسترد کردی تاہم اس نے سبرامنیم سوامی کی اُس رٹ درخواست کی بحالی کا حکم دیا جس میں انہوں نے ایودھیا کے متنازعہ مقام پر پوجا کے اپنے بنیادی حق کا حوالہ دیا تھا۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے سال 2010میں 2:1 کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے متنازعہ اراضی 3 فریقین سنی وقف بورڈ‘ نرموہی اکھاڑہ اور بھگوان رام کی مورتی کو بانٹ دی تھی۔

جواب چھوڑیں