بی جے پی کو بڑا دھکا ‘گورکھپور اور پھول پور پر سماج وادی پارٹی کا قبضہ

بی جے پی کو آج اس وقت بڑا دھکا پہنچا جب سماج وادی پارٹی نے اپنی پرانی دشمن بی ایس پی کی تائید سے اترپردیش کی 2 لوک سبھا نشستیں گورکھپور اور پھول پور جیت لیں۔ یہ 2 نشستیں ‘ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور ڈپٹی چیف منسٹر کیشوپرساد موریہ نے خالی کی تھیں۔ گورکھپور میں سماج وادی پارٹی امیدوار پروین کمار نشاد نے اپنے بی جے پی حریف اوپیندر دت شکلا کو 21,881 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی۔ پھول پور میں سماج وادی پارٹی امیدوار ناگیندر پرتاپ سنگھ پٹیل نے اپنے بی جے پی حریف کوشلیندر سنگھ پٹیل کو 59,613 ووٹوں سے ہرایا۔ سماج وادی پارٹی کی اس جیت کا جشن منایا گیا۔ لوک سبھا کی اگلی جنگ میں آئندہ سال بی جے پی کو شکست دینے ملک بھر میں اپوزیشن اتحاد کے مطالبے ہونے لگے۔ بہوجن سماج وادی پارٹی(بی ایس پی) نے سماج وادی پارٹی کی تائید کی تھی تاکہ اپوزیشن کے ووٹ نہ بٹیں۔ مافیا ڈان سے سیاستداں بنے عتیق احمد نے جیل کے اندر رہ کر پھول پورسے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑا۔ انہوں نے 33,818 ووٹ حاصل کئے جبکہ کانگریس کے منیش مشرا کو 11,934ووٹ ملے۔ اترپردیش میں بی جے پی کی ایک سال پرانی حکومت کے لئے یہ بڑا دھکا ہے۔ گورکھپور اور پھول پور میں اتوار کے دن ووٹ ڈالے گئے تھے۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان انوراگ بھدوریہ نے آئی اے این ایس سے کہا کہ عوام نے مودی اور یوگی کو مسترد کردیا ہے کیونکہ یہ دونوں وعدے تو بڑے بڑے کرتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں ہیں۔ سماج وادی پارٹی قائدین نے مانا کہ بی ایس پی کی تائید نے ان کی جیت میں اہم رول ادا کیا ہے۔ 2014کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے یوپی میں 80 کے منجملہ 71 نشستیں جیت کر چونکا دیا تھا۔ سماج وادی پارٹی کو اس وقت 5 نشستیں ملی تھیں۔ کانگریس کو 2 پر اکتفا کرنا پڑا تھا اور بی ایس پی کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آیا تھا۔ پی ٹی آئی کے بموجب سماج وادی پارٹی نے اترپردیش کی 2 لوک سبھا نشستوں پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ریاست کی برسراقتدار جماعت بی جے پی پیچھے جاسکتی ہے ۔مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی کی تائید نے سماج وادی پارٹی کی بڑی مدد کی۔ اسی دوران چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے آج کہا کہ گورکھپور اور پھول پور کا نتیجہ ایک ’’سبق‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سماج وادی پارٹی۔ بی ایس پی اتحاد کیا رنگ لاسکتا ہے یہ سمجھنے سے قاصر رہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کی شکست کی وجوہات بتاتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے لکھنو میں اپنے سرکاری بنگلہ پر میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ جب امیدواروں کا اعلان ہوا تھا تو سماج وادی پارٹی‘ بی ایس پی اور کانگریس ساتھ ساتھ نہیں تھے۔ اچانک سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی میں انتخابی مفاہمت ہوگئی۔ ہم حد سے زیادہ خوداعتمادی میں سمجھ ہی نہیں پائے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سیاسی سودے بازی شروع ہوچکی ہے اور عوام کو سمجھ میں آجائے گا۔چیف منسٹر نے جو لوک سبھا میں گورکھپور کی 5 مرتبہ نمائندگی کرچکے ہیں‘ کہا کہ ضمنی الیکشن میں مقامی مسائل کے باعث بی جے پی کی کارکردگی خراب رہی ۔ مرکز کی پالیسیوں کی وجہ سے شکست نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مسائل حاوی رہے اور رائے دہی بھی کم ہوئی۔ جب عام انتخابات ہوتے ہیں تو قومی مسائل چھائے رہتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک بھر میں اعتماد کا احساس پایا جاتا ہے ۔تمام امور کا جائزہ لیا جائے گا ۔ آج کے انتخابی نتائج ایک سبق ہیں۔ آئی اے این ایس کے بموجب انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنا محاسبہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سماج وادی پارٹی۔ بی ایس پی اتحاد کا صحیح اندازہ نہیں لگایا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اس کا 2019 کے عام انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یوگی نے کہا کہ وہ 2 حلقوں کے ضمنی الیکشن کے نتائج کو قبول کرتے ہیں کیونکہ جمہوریت میں عوام ہی برتر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں مقامی عوامل کارفرما ہوتے ہیں جبکہ عام انتخابات میں ایسا نہیں ہوتا۔ عام انتخابات میں بی جے پی کے حق میں لہر آئی تھی۔ چیف منسٹر نے مانا کہ آج کے نتائج غیرمتوقع ہیں اور آج کی شکست بی جے پی کے لئے ایک سبق ہے۔ ہم محاسبہ کریں گے ۔ ہم پتہ چلائیں گے کہ ہمیں کیوں دھکا پہنچا۔ ہم اپوزیشن کو شکست دینے حکمت عملی وضع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی غافل نہیں رہ سکتی ۔ اسے سنجیدگی سے محاسبہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے گورکھپور اور پھول پور سے لوک سبھا کے لئے منتخب سماج وادی پارٹی امیدواروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ دونوں‘ ریاست کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔

جواب چھوڑیں