جی ایچ ایم سی میں مشن بھگیر تا کے کام جاری : کے ٹی آر

llریاستی وزیر بلدی نظم ونسق وشہری ترقیات کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ مشن بھگیر تا کے تحت جی ایچ ایم سی حدود اور اس کے اطراف علاقوں میں پینے کے پانی کی سربراہی کے کام جاری ہیں۔ ایوان میں آج سیاسی جماعتوں کے مختلف قائدین نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما شروع ہوچکا ہے ۔ جی ایچ ایم سی حدود بالخصوص پرانے شہر میں پینے کے پانی کی سربراہی میں کمی آگئی ہے ۔ شہر کے چندعلاقوں میں ہفتہ میں ایک بار پانی سربراہ کیا جارہا ہے اور انہوںنے واٹر ٹینکس کے ذریعہ پانی سربراہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان ارکان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اور سیوریج بورڈ کے تحت شہر میں430 ایم جی ڈی پانی سربراہ کیا جارہا ہے بورڈ کی مالی حالت بہتر نہیں ہے ۔ ہر ماہ بورڈ کو50 تا60 کروڑ روپے کا خسارہ ہورہا ہے اس کے باوجود بورڈ کو نئے ذخائر آب تعمیر کرنے‘ قدیم پائپ لائنوں کو جدید پائپ لائنوں سے تبدیل کرنے کے کام کرانا پڑتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے اطراف کے190 مواضعات میں آبرسانی کام جاری ہیں۔او آر آر کے حدود میں بھی مشن بھگیر تا کام جاری ہیں۔ آبرسانی پراجکٹ، میونسپل سرکلس کے اطراف کے علاقوں پر مشتمل ہے ۔ جہاں پانی کے ذخیرہ کے 56مقامات تعمیر کئے جارہے ہیں اس کے علاوہ 1900 کیلو میٹر طویل کام انلِٹ مین، آوٹ لٹ اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پر مشتمل ہے ۔ جس کے لئے1900 کروڑ روپے کا تخمینہ رکھا گیا ہے ۔ 1700 کروڑ روپے ہڈکو سے قرض حاصل کیا گیا ہے جبکہ مابقی200 کروڑ روپے بجٹ سے فراہم کئے جارہے ہیں۔ انہوںنے بی جے پی ارکان پر زور دیا کہ وہ مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے ریاست میں آبرسانی پراجکٹ کے کاموں کیلئے بجٹ منظور کرائیں۔

جواب چھوڑیں