غوطہ میں شامی اور روسی افواج کے حملے جاری

شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ کے بڑے شہر دوما سے بیمار اور زخمی شہروں کے انخلا کا آغاز ہوگیا ہے جبکہ شامی فوج نے باغیوں کے مبینہ ٹھکانوں اور شہری آبادیوں پر تباہ کن حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ کل تقریباً 150 افراد کو مشرقی الغوطہ سے نکالا گیا ہے۔ ان میں شیر بچوں اور خواتین اور بیساکھیوں کے سہارے چلنے والے مرد حضرات بھی شامل تھے۔ بعض کو ویل چئیر پر الوافدین کراسنگ تک لایا گیا تھا اور وہاں سے بسوں پر سوار کرایا گیا۔رصدگاہ کی اطلاع کے مطابق اس دوران میں مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف قصبوں اور دیہات پر شامی فوج کے طیاروں کے فضائی حملے جاری رہے ہیں۔شامی حکومت نے محاصرہ زدہ مشرقی الغوطہ میں لڑنے والے باغی گروپوں کو محفوظ انخلا کی پیش کش کی ہے لیکن انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا ہے اور تادم مرگ لڑائی جاری رکھنے کا ا علان کیا ہے۔تاہم اس کا یہ حربہ دمشق کے نواح میں واقع قصبے القدم میں لڑنے والے باغیوں پر کامیاب رہا ہے اور وہ انخلا پر آمادہ ہوگئے ہیں۔لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیر انتظام خبری ذریعہ ملٹری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ الجندالشام سے تعلق رکھنے والے کم سے کم 300 جنگجو ؤں اور ان کے خاندانوں کو بسوں کے ذریعے باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب میں منتقل کردیا گیا ہے۔شامی رصدگاہ نے بھی اس اطلاع کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں سیکڑوں جنگجو اور ان کے خاندان القدم سے بسوں پر سوار ہو کر چلے گئے ہیں۔القدم کے ایک جانب اسد حکومت کی عمل داری والا علاقہ ہے اور دوسری جانب داعش کے زیر قبضہ علاقہ ہے۔اس نے علاقے میں داعش کے جنگجوؤں اور سرکاری فورسز کے درمیان لڑائی کی بھی اطلاع دی ہے۔مشرقی الغوطہ میں شامی فوج کے خلاف برسرپیکار ایک بڑے باغی گروپ جیش الاسلام کے سیاسی عہدے دار یاسر دلوان نے کہا ہے کہ دوما سے مریضوں کے پہلے گروپ کو نکالا گیا ہے۔ان کے نام اقوام متحدہ کی مرتب کردہ قریباً ایک ہزار افراد کی فہرست میں شامل تھے اور انھیں فوری طور پر ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔شام کے سرکاری میڈیا نے دوما سے پہلے گروپ کی شکل میں آنے والے 35 افراد کی فوٹیج بھی نشر کی ہے۔انھیں دمشق کے نواح میں ایک شیلٹر میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ شامی ٹی وی نے بعض ایسے افراد کے انٹرویوز کیے ہیں جن کا کہنا تھا کہ انھیں باغیوں نے روک رکھا تھا۔ شام اور روس نے باغیوں پر علاقے کے محصور مکینوں کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ باغیوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

جواب چھوڑیں