لوک سبھا میں بحث کے بغیر بجٹ منظور

 لوک سبھا نے چہارشنبہ کے دن کسی بحث کے بغیر مرکزی بجٹ کو منظوری دے دی۔ اس وقت ہنگامہ برپا تھا۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس نے بائیکاٹ کیا۔ ٹی ڈی پی‘ وائی ایس آر کانگریس اور سماج وادی پارٹی ارکان ‘ اسپیکر کے پوڈیم کے قریب احتجاج کررہے تھے۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے فینانس بل 2018 پیش کیا۔ انہوں نے شورشرابہ کے دوران تصرف بل بھی پیش کردیا جو ندائی ووٹ سے منظور ہوگئے۔ ایوان ِ زیریں میں کئی مسائل پر ہنگامہ جاری تھا۔ فینانس بل اور تصرف بل کی منظوری کے ساتھ ہی لوک سبھا میں بجٹ کی مشق مکمل ہوگئی۔ عام طورپر پارلیمنٹ بعض چنندہ وزارتوں کے مطالبات گرانٹس پر بحث کرتی ہے۔ یو این آئی کے بموجب حکومت نے اپوزیشن کے اس الزام کی پرواہ نہیں کی کہ کسی بحث کے بغیر لوک سبھا میں فینانس بل کی منظوری تباہ کن ہے۔ حکومت کے ذرائع نے یہ کہتے ہوئے مدافعت کی کہ ایوان ِ زیریں میں بحث کے بغیر بجٹ منظور کرانا ضروری تھا کیونکہ 5 مارچ سے پارلیمنٹ میں کوئی کام ہی نہیں ہورہا ہے۔

جواب چھوڑیں