مسلمان‘ ایودھیا کی اراضی تحفہ میں دیں: روی شنکر

آرٹ آف لیونگ کے بانی سری سری روی شنکر کا کہنا ہے کہ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد تنازعہ کا بہترین حل ‘ عدالت کے باہر سمجھوتہ ہے جس کے تحت مسلمانوں کو اراضی‘ رام مندر کی تعمیر کے لئے ہندوؤں کو بطور تحفہ دینی ہوگی۔ 61 سالہ روحانی رہنما نے جو سنی اور شیعہ رہنماؤں سے ملاقات کرچکے ہیں‘ یہ بھی کہا کہ وہ حکومت سے ربط میں نہیں ہیں اور ان کی کوششوں سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں۔ روی شنکر نے جن کے ماننے والے دنیا کے مختلف ملکو ںمیں موجود ہیں‘ خون خرابہ والی بات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سپریم کورٹ نے اراضی کا مالکانہ حق دونوں فرقوں میں کسی کو دیا تو خون خرابہ ہوگا۔ روی شنکر نے آئی اے این ایس کو انٹرویو میں کہا کہ وہ بھگوان رام کا مقام پیدائش ہے۔ اس مقام سے جذبات جڑے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے وہ جگہ اہم نہیں۔ متنازعہ جگہ پر نماز نہیں ہوتی۔ اس سے کوئی مقصد پورا ہونے والا نہیں۔ جب دوسرے فرقہ (مسلمانوں) کا مقصد پورا نہ ہوتا ہوتو وہ جگہ تحفہ میں دے دینی چاہئے۔ روی شنکر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مندر کے حق میں فیصلہ کیا تو دل جلیں گے۔ اس نے مسجد کے حق میں رولنگ دی تو بھی دل جلیں گے۔ دونوں صورتوں میں سماج میں تفرقہ پیدا ہوگا۔ میں وِن وِن (دونوں کی جیت) والی صورتحال چاہتا ہوں ۔ روحانی رہنما نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عدالت کے باہر سمجھوتہ ہوجائے گا۔ یہ پوچھنے پر کہ 2019 کے لوک سبھا الیکشن سے قبل دوستانہ حل کی کوئی آخری تاریخ طے ہے‘ انہوں نے جواب دیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ میں صرف وہ بات کہہ رہا ہوں جو دونوں فرقوں کے لئے بہتر ہے۔ الیکشن سے کوئی لینا دینا نہیں۔ روی شنکر نے مانا کہ مندر تنازعہ ملک بھر میں لوگوں کو مذہبی خطوط پر بانٹ رہا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام فرقے ایک دوسرے کے قریب آئیں ۔ متحد ہونا اور پُل بنانا زیادہ بامعنی ہے اور یہ پہل پل بنائے گی۔ شیعہ اور سنی علما سے بات چیت کے تعلق سے روی شنکر نے کہا کہ متنازعہ مقام پر بھگوان رام کی مورتی موجود ہے ۔ وہ سبھی جانتے ہیں کہ مورتی ہٹ نہیں سکتی لہٰذا ہمیں مل بیٹھنا اور بات کرنا ہوگا۔ سری سری نے کہا کہ محکمہ آثار قدامہ کے ثبوت کی بنیاد پر عدالت نے اراضی ہندوؤں کو دے دی تو مسلمانوں میں نظام عدلیہ کے تعلق سے سنگین خدشات پیدا ہوجائیں گے۔ اس کے نتیجہ میں مسلم نوجوان تشدد برپا کرسکتے ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر رہنما‘ عدالت کا فیصلہ ماننے کی بات کہہ چکے ہیں لیکن آگے یہ احساس پیدا ہوگا کہ عدالت نے انصاف نہیں کیا اور یہ احساس کئی سال رہے گا۔ ہندوؤں نے کیس ہارا اور اراضی‘ بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لئے مسلمانوں کو دے دی گئی تو ملک بھر میں بڑے پیمانہ پر فرقہ وارانہ گڑبڑ ہوگی۔ ایک ایکڑ اراضی جیت کر مسلمان‘ اکثریتی فرقہ کی خیرسگالی سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔

جواب چھوڑیں