کانگریس، تلنگانہ کی نمبرون دشمن جماعت: کے سی آر

تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاستی اسمبلی میں آج دعویٰ کیا کہ کانگریس پارٹی، ریاست کی نمبر ایک دشمن جماعت رہی ہے ۔ انہوںنے اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ18 سال قبل بھی کانگریس ، تلنگانہ کی دشمن نمبر ون جماعت تھی اور اب بھی ہے ۔ کانگریس نے اپنے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں لائی ہے ۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں علاقہ تلنگانہ کے ساتھ کئی ناانصافیاں کی گئیں۔ آبپاشی، دریاوں کے پانی کی تقسیم اور فنڈس کے اختصاص میں تلنگانہ کے ساتھ شدید ناانصافیاں کی گئیں مگر علاقہ کے کانگریس قائدین خاموش تماشائی کا رول انجام دیتے رہے ۔ چیف منسٹرکے چندر شیکھر راؤ، گورنر کے خطبہ پر تحریک اظہار تشکر پر مباحث کا جواب دے رہے تھے ۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے پہلے روز پیر کو اسمبلی اور کونسل کے ارکان سے مشترکہ خطاب کیا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یہی کانگریس جس نے1956 میں تلنگانہ کو آندھرا پردیش میں ضم کردیا اس کے علاوہ اس سے قبل علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران400 افراد کو موت کے گھاٹ اتار نے کی ذمہ دار یہی کانگریس جماعت ہے جس نے400 سے زائد تلنگانہ حامیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ کانگریس ارکان ، عہدوں کی خاطر ہمیشہ سے ہی علحدہ تلنگانہ کے خلاف رہے ہیں۔ متحدہ ریاست اے پی کے آخری چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے اسمبلی میں یہ اعلان کیا کہ تھا وہ‘ تلنگانہ کے لئے ایک روپیہ بھی نہیں دیں گے ۔ جب کرن کما رریڈی نے یہ ریمارک کیا تھا اُس وقت کانگریس کے کسی رکن نے بھی‘ اُس وقت کے چیف منسٹر کے خلاف لب کشائی نہیں کی تھی ۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مزید کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے وقت نئی ریاست پر72 ہزار کروڑ روپے کے قرض کا بوجھ تھا، مزید نئے قرض حاصل کرنے کے بعد قرض بڑھ کر1.42 لاکھ کروڑ روپے ہوگیا ۔ کے سی آر نے دعویٰ کیا کہ وہ ریاست کی ہمہ جہت ترقی کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ انہوںنے حکومت کی مختلف اسکیمات کا تذکرہ کیا ان اسکیمات کو روبعمل لایا جارہا ہے ۔ ان میں مشن بھگیرتا اور مشن کاکتیہ بھی شامل ہیں۔ ان تمام اسکیمات کو عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرایا گیا ہے ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے اپوزیشن کے ان الزامات کا مذاق اڑایا جس میں اپوزیشن نے گورنر کے خطبہ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا ۔ چیف منسٹر نے اپنی تقریر میں ریاست میں جاری مختلف اسکیمات کا تفصیلی تذکرہ کیا۔

جواب چھوڑیں