بی جے پی نے آندھراپردیش کے 5 کروڑ عوام کو دھوکہ دیا: چندرا بابونائیڈو

آندھرا پردیش کے چیف منسٹر و تلگودیشم پارٹی کے سربراہ این چندرا بابونائیڈو نے چہارشنبہ کے روز بی جے پی کی زیرقیادت مرکز کی این ڈی اے حکومت پر آندھراپردیش کے عوام کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ ریاست کی تقسیم کے وقت پر مرکز نے اے پی کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہ کرتے ہوئے ریاستی عوام سے دغابازی کی ہے۔ آندھراپردیش کے 5 کروڑ افراد کا یہ خیال ہے کہ بی جے پی، ہمارے جذبات سے کھیل رہی ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کو خصوصی موقف کے مسئلہ پر وہ این ڈی اے حکومت کی تائید سے دستبردار ہونے اور ریاست میں بی جے پی کے ساتھ مفاہمت ختم کرنے سے قبل، آخری بجٹ تک انتظار کررہے ہیں۔ نائیڈو نے کہاکہ مرکزی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ 14 ویں فینانس کمیشن کی سفارش پرریاست کو خصوصی موقف نہیں دیا جاسکتا۔ جبکہ فینانس کمیشن کے صدر نشین اور کمیشن کے ارکان نے ایسی کوئی سفارش سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکز کی حکومت مجھ کو بدنام کررہی ہے کہ ہم تو ریاست کو فنڈس دینا چاہتے ہیں مگر آپ فنڈس کے حصول کے لئے تیار نہیں ہیں۔14 ویں فینانس کمیشن کے باوجود ملک کی 11 ریاستوں کو خصوصی موقف کا درجہ دیاگیا ہے پھر آندھراپردیش کو یہ درجہ کیوں نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی بات کی اور کہاکہ اگر آپ ہمارے مسائل حل کردو گے تو ہم این ڈی اے میں بدستور شامل رہیں گے۔ اس کے بعد این ڈی اے سے مفاہمت ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ نائیڈو نے کہاکہ میں نے بی جے پی کے ساتھ اس لئے مفاہمت کی تھی کہ ریاست کو مرکز کی مدد کی ضرورت رہے گی۔ اگر مرکز، پہلے سال میں ہی ریاست کو خصوصی موقف دیتا تو ریاست کے 3 ہزار تا 5 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوتی۔ وہ اس بارے میں تمام تر ریکارڈز پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ میں ریاست کو خصوصی موقف کے لئے 4 برس تک انتظار کرچکا ہوں لیکن مرکزی بجٹ میں آندھراپردیش کے لئے ایک لفظ بھی نہیں کہاگیا اور اے پی کے بارے میں دلچسپی کا اظہار بھی نہیں کیا گیاہے۔ نائیڈو نے کہا کہ گذشتہ 4 برسوں کے دوران وہ 29 بار نئی دہلی کا دورہ کرچکے ہیں ان دوروں کے دوران وہ، وزیراعظم اور مرکزی وزراء سے بھی ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ نئی دہلی کے 29 دوروں کے بعد بھی کچھ نہیں ملا۔ یہ سب چھوٹی باتیں ہیں مگر سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ اے پی تنظیم جدید ایکٹ کو نافذ نہیں کیاگیا ہے۔

جواب چھوڑیں