آدھار‘ ہر مرض کی دوا نہیں۔ سپریم کورٹ کا ریمارک

 سپریم کورٹ نے آج مرکز کے اِس استدلال کا رد کیا ہے کہ آدھار (کارڈ) ملک میں رائج سسٹم کے ہر مرض بشمول بینک فراڈس کی دوا ہے۔ چیف جسٹس ‘ جسٹس دیپک مشرا کی زیرصدات 5 رکنی دستوری بنچ نے کہا کہ آدھار‘ کوئی حل نہیں ۔ ’’کروڑہا روپے کے بینک فراڈس ‘ مبینہ طورپر دھوکہ بازوں نے بینک عہدیداروں کی مبینہ چشم پوشی سے کئے ہیں۔ پھر آدھار کیسے محفوظ ہے؟ ۔ قرض دہندہ جانتا ہے کہ وہ کس کو قرض دے رہا ہے ۔ وہ تو بینک عہدیدار ہیں جو دھوکہ بازوں کے ساتھ ملی بھگت رکھتے ہیں۔ آدھار‘ اس کو روکنے کچھ نہیں کرسکتا‘‘۔ مذکورہ بنچ نے جس میں جسٹسس ارجن کمار سیکری‘ اشوک بھوشن‘ ڈی وائی چندرچوڑ اور اے ایم کھنولکر بھی شامل ہیں‘ درخواست گذاروں اور مدعی علیہان کے مباحث کی سماعت کی۔ اسی دوران سپریم کورٹ میں متعدد مرافعہ جات داخل کئے گئے ہیں جن کے ذریعہ آدھار کے دستوری جواز کو چیلنج کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں بینک کھاتوں‘ موبائل فونس اور دیگر معاملتوں سے آدھار نمبر کو لازمی طورپر مربوط کرنے سے متعلق مرکز کے اقدام کے دستوری جواز کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ اس امر کو یقینی بنانے معقول سیکوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں کہ کلیکشن مراکز سے کسی بھی شکل میں ڈاٹا کا افشا نہ ہونے پائے۔ وینو گوپال نے کہا کہ آدھار کے ذریعہ مرکزی حکومت‘ غریب لوگوں کو غذائی اجناس‘ رہنے کے لئے جگہ اور روزگار فراہم کررہی ہے۔ حکومت نے حق رازداری کی برقراری کے لئے احتیاطی اقدامات کئے ہیں۔ اس حق پر انتہائی معمولی اثر پڑا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنی رولنگ میں کہا کہ پچھڑے طبقات کو جنہیں غذا اور رہنے کے لئے گھر کی ضرورت ہے وہ‘ حق رازداری بھی رکھتے ہیں اور حکومت اس حق کی خلاف ورزی نہیں کرسکتی۔

جواب چھوڑیں