امریکی افواج‘ داعش کے خاتمہ تک شام میں موجود رہیں گی: ٹرمپ

وائٹ ہاوس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ شام میں داعش کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر مخلص ہے اور جب تک اس ملک سے اس دہشت گرد گروپ کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، امریکی دستے شام میں موجود رہیں گے۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں داعش ابھی بھی محدود پیمانے پر موجود ہے جسے اتحادی افواج مکمل طور پر ختم نہیں کر سکی ہیں۔ بیان کے مطابق امریکہ اس حوالے سے اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے ساتھ مستقبل کے پلان کے حوالے سے مشاورت جاری رکھے گا۔ وائٹ ہاؤس سے جاری کیا گیا یہ بیان امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹیل کے اس بیان سے مطابقت رکھتا ہے جس میں انہوں نے شام میں گزشتہ چند سالوں کے دوران امریکہ کی حاصل کی گئی عسکری کامیابیوں کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خیال میں مشکل ترین مرحلہ اب طے کیا جا چکا ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ اختتام ہفتہ سامنے آنے والے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے شام سے اپنے فوجی دستے بہت جلد واپس بلانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ کل صدر ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا ، ’’شام میں یہ مشن ہمارے ملک کے لیے نہایت مہنگا ثابت ہو رہا ہے جبکہ اس سے ہمارے مقابلے میں دوسرے ممالک کو زیادہ مدد مل رہی ہے۔‘‘ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد شام میں امریکہ کے کردار کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ ان میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب صدر ٹرمپ نے امریکی ریاست اوہائیو میں کہا کہ امریکہ جلد ہی شام سے اپنے دستے واپس بلا لے گا، ’’وہاں اب دوسرے لوگ معاملات دیکھیں۔ ‘‘ ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے اب سے تین ماہ قبل تک مشرق وسطیٰ میں سات ٹریلین ڈالرز کے اخراجات کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم وہاں اسکول تعمیر کرتے ہیں اور وہ اسے تباہ کر دیتے ہیں۔ ہم پھر تعمیر کرتے ہیں اور وہ پھر تباہ کر دیتے ہیں۔ ‘‘امریکی صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی مزید کچھ عرصے کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وہ ان کی جلد واپسی بھی چاہتے ہیں۔یہ بات امریکہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے کل ایک بیان میں کہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجیوں کے فوری انخلا کی منظوری نہیں دی ہے۔ وہ داعش کے جنگجوؤں کی شکست کو یقینی بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ خطہ کے ممالک اور اقوام متحدہ شام میں استحکام میں مدد دیں۔وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی دستے فی الحال خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں تعینات رہیں گے۔ بیان کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی شام میں جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ کے باقی ماندہ جنگجوؤں کے خاتمہ کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ مزید یہ کہ امریکہ شام سے متعلق اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپنے اتحادیوں سے مشاورت بھی جاری رکھے گا۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اختتام ہفتہ پر کہا تھا کہ شام میں جاری امریکی آپریشن جلد ختم کر دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں