صارفین کے 8 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ڈیٹا کاسرقہ ‘ فیس بک کا اعتراف

سماجی رابطوں کے معروف پلیٹ فارم ‘فیس بک’ کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ ایک برطانوی فرم نے تین سال قبل آٹھ کروڑ سے زائد فیس بک صارفین کا ڈیٹا غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا تھا۔فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی افسر مائیک شروفر نے کل کو اپنے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق برطانوی ریسرچ فرم ‘کیبرج اینا لیٹیکا’ کو 8 کروڑ 70 لاکھ سے زائد فیس بک صارفین کا ڈیٹا ملا تھا۔اس سے قبل اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ اور برطانوی اخبار ‘آبزرور’ نے اندازہ لگایا تھا کہ ان فیس بک صارفین کی تعداد پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہوسکتی ہے جن کی معلومات ان کی اجازت کے بغیر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی گئیں۔ڈیٹا حاصل کرنے والی ریسرچ فرم ‘کیمبرج اینا لیٹیکا’ پر الزام ہے کہ اس نے ان فیس بک صارفین کی معلومات امریکی انتخابات میں سیاسی امیدواروں بشمول صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں غیر قانونی طور پر استعمال کی تھیں۔مائیک شوفر نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ فیس بک کے اندازے کے مطابق ‘کیمبرج اینا لیٹیکا’ کے ہاتھ جن پونے نو کروڑ صارفین کا ڈیٹا لگا تھا ان کی اکثریت کا تعلق امریکہ سے تھا۔اپنے بلاگ میں ‘فیس بک’ کے چیف ٹیکنالوجی افسر نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے صارفین کی تعداد سے متعلق یہ اندازہ کس طرح لگایا ہے۔سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ برطانوی پولیٹیکل کنسلٹنسی کمپنی کیمبرج انالیٹیکا کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کو امریکی صدارتی انتخابات میں غلط طریقے سے استعمال کئے جانے پر آئندہ ہفتے کانگریس کی کمیٹیوں کے سامنے پوچھ گچھ کا سامنا کریں گے۔امریکی ممبران پارلیمنٹ نے کل یہ اطلاع دی۔ زکربرگ 10 اپریل کو امریکی سینیٹ جوڈیشل اور کامرس کی مشترکہ سماعت کے دوران پیش ہوں گے۔زکربرگ اگلے روز یعنی 11 اپریل کو امریکی ایوان کی انرجی اور کامرس کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوں گے۔ایوان پینل کے ریپبلکن چیئرمین گریگ والڈن اور ٹاپ ڈیموکریٹ فرینک پیلون نے ایک بیان میں کہا’’یہ سماعت اہم صارفین ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل پر روشنی ڈالنے اور تمام امریکیوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مددگار ہو گی‘‘۔فیس بک نے تسلیم کیا کہ کیمبرج انالیٹیکانے 8 کروڑ 70 لاکھ سے زائد فیس بک صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کیا۔

جواب چھوڑیں