پی سی ایکٹ ترمیمی بل لوک سبھا میں ابھی منظور نہیں ہوا: وینکیا نائیڈو

صدرنشین راجیہ سبھا ایم وینکیا نائیڈو نے آج ‘ ایوان کے ریکارڈس کوتصحیح کرتے ہوئے کہا کہ انسداد رشوت ستانی ایکٹ (1988) (پی سی ایکٹ )میں ترمیم سے متعلق بل جو ‘ کل نمبر پر لیا گیا تھا‘ لوک سبھا میں ہنوز منظور نہیں ہوا ہے۔ قبل ازیں ترنمول کانگریس رکن سکھیندو شیکھر رائے نے ایک پوائنٹ آف آرڈر کے ذریعہ یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ نائب صدرنشین راجیہ سبھا پی جے کورین ‘ کل کا اپنا یہ بیان واپس لیں کہ مذکورہ بل کو پیش کرنے متعلقہ وزیر کو اجازت دی گئی تھی اور یہ کہ لوک سبھا نے اس کو منظور کیا اور پھر ایوان ِ بالا کو یہ بل ترسیل کیا۔ رائے نے کہا کہ یہ بل ‘ 19 اگست 2013 کو راجیہ سبھا کو لایا گیا تھا اور جانچ کے لئے پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی نے ایک سال بعد اپنی رپورٹ پیش کی لیکن قانون سازی معاملہ کو راجیہ سبھا کی ایک سیلکٹ کمیٹی سے رجوع کیا گیا جس نے اپنی رپورٹ 11 اگست 2016 کو پیش کی۔ رائے نے کہا کہ حکومت نے یہ بل کل (4 اپریل 2018 کو) ایوان ِ بالا میں پیش کیا۔ لوک سبھا نے اس بل کو منظور نہیں کیا تھا۔رائے نے مزید کہا کہ صدرنشین نے کل جو حکم جاری کیا وہ غلط فہمی کے تحت جاری کیا اور اس حکم کو واپس لیا جائے۔ اس مرحلہ پر نائیڈو نے ریکارڈ کو درست کرتے ہوئے کہا کہ انسداد رشوت ستانی قانون سے متعلق بل ‘ وہ مسودہ قانون ہے جس کی رپورٹ ‘ ایوان کی سیلکٹ کمیٹی نے دی ہے۔ دریں اثنا اپوزیشن ارکان نے مذکورہ مسئلہ پر ایوان کو گمراہ کرنے کی ‘ حکومت کی کوششوں پر احتجاج کیا۔ بعض وزرا نے بھی کہا تھا کہ مذکورہ بل لوک سبھا میں منظور کیا گیا تھا لیکن آج یہ مسئلہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی گڑبڑ میں دب کر رہ گیا۔ یہ اپوزیشن ارکان آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے کا مسئلہ اور کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کی تشکیل جیسے مسائل اٹھارہے تھے۔ وینکیا نائیڈو نے اپوزیشن ارکان کی نعرہ بازی کے بعد اجلاس کی کارروائی ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں