اجودھیا تنازع : ہمارے کار آمد بحث کررہے ہیں ، عدالت کا فیصلہ مثبت ہوگا : مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی : بابری مسجد رام جنم بھومی کیسکی جمعہ کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ڈاکٹر راجیو دھون جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے اور معاملہ کو آئینی بینچ کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ۔عدالت عظمی میں کیس کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی نے کہا ہے کہ ہمارے وکلاء بڑی مثبت اور کارآمد بحث کررہے ہیں ۔ بابری مسجد حق ملکیت کا معاملہ انتہائی حساس اور اہم ہے ، اس لئے اس معاملہ کو وسیع تر بینچ کے حوالہ کرنے کے تعلق سے ہمارے وکلاء نے جو سوال اٹھایا ہے وہ بالکل جائز اور درست ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ مسجد کا معاملہ کثرت ازدواج کے معاملہ سے زیادہ اہم ہے اس لئے کہ اسلام میں کثرت ازدواج کے سلسلہ میں نہ تو کوئی حکم ہے بلکہ اس بات کی اجازت ہے کہ اگر کوئی شخص اشدضرورت محسوس کرے تو ایک سے زائد شادی کرسکتا ہے اور اس کے لئے بھی سخت شرائط ہیں ، جس میں سب سے اہم شرط تمام بیوں کے ساتھ یکساں سلوک اور یکساں حقوق کی ادائیگی ہے ۔ مولانا مدنی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مسجد کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں واضح احکامات موجود ہیں ۔مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ہمارے وکلاء پوری تیاری کے ساتھ عدالت میں جاتے ہیں اس لئے ہمیں پورایقین ہے کہ عدالت کا فیصلہ مثبت ہوگا اور اس معاملہ کی سماعت کثیر رکنی بینچ کے سپردکی جائے گی ۔خیال رہے کہ چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیر اور جسٹس بھوشن شامل ہیںجو اس معاملہ کی سماعت کررہے ہیں۔

جواب چھوڑیں